| عہدِ وفا سوچ کے باندھ اس کھیل کو بازیٔ جاں جانا ہے
|
| مل جائے تو کیا کہنے نہ ملے تو اس کو غمِ جہاں جانا ہے
|
| دل تابع ہے جنوں کے اور ذہن خرد ہی کا مارا ہوا ہے
|
| خود کو قیدی سمجھا ہے اور اس زیست کو زنداں جانا ہے
|
| اس دشتِ الفت میں ہم نے اس صورت اڑائی ہے خاک کہ اب
|
| جس نے بھی جہاں دیکھا ہے ہمیں تو چاکِ گریباں جانا ہے
|
|
|