Circle Image

سردار محمد ادریس سما

@idrees

صبح کا سورج ڈھوب چکا ہے
ہر سو شام سی بکھری ہوئی ہے
ہم نے تو خیر سے خود کشی کر لی
وہ دن رات میں الجھی ہوئی ہے

0
1
دردِ دل کی شفا ہے مادہ پرستی سب ہی کے واسطے
خونِ جگر یوں چشمِ برہ سے مگر ظاہر نہیں ہوتا ہے
ندرتِ تخیل سے حسنِ سخن باقی رہتا ہے سماؔ
لفظوں کے توڑ جوڑ سے بندہ شاعر نہیں ہوتا ہے

0
1
عجیب شخص ہو سادہ دلی کو روتے ہو میاں
یہاں تو نعمت ہے آدمی کا آدمی ہونا

0
1
غم کی شب گزرے
کل نئی صبح ہو گی
جاں لٹی زخم ہوئے
تن کٹے سر کٹے
بن ماں کے بچے لیے
اپنے وطن پہنچے

0
1
ایک برہمن نے کہا یہ سال اچھا ہو گا
ماضی تھا برا شاید حال اچھا ہو گا
گو ہر دن کوئی نئی بات بنائے ہے وہ
ممکن ہی تو نہیں کہ یہ قال اچھا ہو گا
روزِ اول ہی جو نوازا سوالی کو
آدم زاد کہے ہیں یہ سال اچھا ہو گا

0
عہدِ وفا سوچ کے باندھ اس کھیل کو بازیٔ جاں جانا ہے 
 مل جائے تو کیا کہنے نہ ملے تو اس کو غمِ جہاں جانا ہے 
دل تابع ہے جنوں کے اور ذہن خرد ہی کا مارا ہوا ہے 
 خود کو قیدی سمجھا ہے اور اس زیست کو زنداں جانا ہے 
اس دشتِ الفت میں ہم نے اس صورت اڑائی ہے خاک کہ اب 
جس نے بھی جہاں دیکھا ہے ہمیں تو چاکِ گریباں جانا ہے 

0
یاد اس کی تھی صبا کو بھی سنبھالے رکھا
اپنے ہی دل سے مگر خود کو نکالے رکھا
جو سرِبزم ہوئی بات بے وفائی کی
ہم نے کچھ بھی نہ کہا بات کو ٹالے رکھا
جو اشک بار ہوئےوہ شبِ ساون کی طرح
ہم نے پھر ہجر کے غم کو ذرا پالے رکھا

0
بزمِ جاناں میں دیا ایک جلاتے جاتے
آبلہ پا تھے ترے شہر سے جاتے جاتے
تھے یہ الزام خرد باختہ ہونے کا سبب
ورنہ ہر شخص سے ہم ہاتھ ملاتے جاتے
بس ضرورت میں ہوئی خرچ کمائی ساری
ورنہ ہم دولت و زر تجھ پہ لٹاتے جاتے

0
2