عہدِ وفا سوچ کے باندھ اس کھیل کو بازیٔ جاں جانا ہے 
 مل جائے تو کیا کہنے نہ ملے تو اس کو غمِ جہاں جانا ہے 
دل تابع ہے جنوں کے اور ذہن خرد ہی کا مارا ہوا ہے 
 خود کو قیدی سمجھا ہے اور اس زیست کو زنداں جانا ہے 
اس دشتِ الفت میں ہم نے اس صورت اڑائی ہے خاک کہ اب 
جس نے بھی جہاں دیکھا ہے ہمیں تو چاکِ گریباں جانا ہے 
آشوبِ دل کو حزنِ دوام ہی سمجھے ہیں یہ اہلِ دل 
حرمانِ وصال پہ جا کر ہم نے یہ دردِ نہاں جانا ہے 
وہ عہد شکن وہ جفا پرور وہ صنم گر عابد اور زاہد
وائے افسوس کہ ہم نے اس کافر کو مسلماں جانا ہے 

0