| ایک برہمن نے کہا یہ سال اچھا ہو گا |
| ماضی تھا برا شاید حال اچھا ہو گا |
| گو ہر دن کوئی نئی بات بنائے ہے وہ |
| ممکن ہی تو نہیں کہ یہ قال اچھا ہو گا |
| روزِ اول ہی جو نوازا سوالی کو |
| آدم زاد کہے ہیں یہ سال اچھا ہو گا |
| عَہْدِ رَفْتَہ اک بھی کارِ جہاں نہ ہوا |
| کوئی بتائے کاہے یہ سال اچھا ہو گا |
| زیست ہماری خطاؤں میں گزری، اے خدا! |
| جانے حشر ہمارا مآل اچھا ہو گا |
| ہوتا ہے مجنوں بھی برہم مجھ پر، جب |
| لیلیٰ کہے آپ کا خیال اچھا ہو گا |
معلومات