غم کی شب گزرے
کل نئی صبح ہو گی
جاں لٹی زخم ہوئے
تن کٹے سر کٹے
بن ماں کے بچے لیے
اپنے وطن پہنچے
کل نئی صبح ہو گی
بیٹا اور بیٹی
راہ میں بچھڑے کھوئے
بھائی بہن کھوجے
تپتے سے خیموں میں
خون میں بھیگے سوئے
رات کٹی ایسے
کل نئی صبح ہو گی
اے میرے محبوب
جان و مال و آل
تجھ پے لٹا کر پھر
ایک قفس چھوڑا
قید سے جاں بچی تو
اک زنجیر ملی
سوچ پے تالا ہے
تخت ہے حاکم کا
تعلیم اس کی ہے
صحت اس کی ہے
جاگیر اس کی ہے
خواب ہمارا ہے
تعبیر اس کی ہے

0
1