بزمِ جاناں میں دیا ایک جلاتے جاتے
آبلہ پا تھے ترے شہر سے جاتے جاتے
تھے یہ الزام خرد باختہ ہونے کا سبب
ورنہ ہر شخص سے ہم ہاتھ ملاتے جاتے
بس ضرورت میں ہوئی خرچ کمائی ساری
ورنہ ہم دولت و زر تجھ پہ لٹاتے جاتے
یہ ستم بھی تو عجب ہم پہ ہوا ہے جاناں
حال پوچھا ہے سبھی نے تیرا آتے جاتے
تجھ سے لپٹے تھے سو مسکان سجا رکھی ہے
ورنہ ہم رات گئے اشک بہاتے جاتے
حالتِ دل جو اگر تُو ہی سمجھ نہ پایا
کیا زمانے کو سما حال سناتے جاتے

0
2