| یاد اس کی تھی صبا کو بھی سنبھالے رکھا |
| اپنے ہی دل سے مگر خود کو نکالے رکھا |
| جو سرِبزم ہوئی بات بے وفائی کی |
| ہم نے کچھ بھی نہ کہا بات کو ٹالے رکھا |
| جو اشک بار ہوئےوہ شبِ ساون کی طرح |
| ہم نے پھر ہجر کے غم کو ذرا پالے رکھا |
| گویا جینے کی تمنا ہی نہیں تھی ہم کو |
| دار سے پہلے ہی پھندا گلے ڈالے رکھا |
| کبھی جو وقت ملا ایک نظر تم کرنا |
| ایک ہی خط کو سما تیرے حوالے رکھا |
معلومات