جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے
لوگ آرام سے سوئے ہوں گے
بعض اوقات بہ مجبورئ دل
ہم تو کیا آپ بھی روئے ہوں گے
صبح تک دستِ صبا نے کیا کیا
پھول کانٹوں میں پِروئے ہوں گے

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
254
عشق تاثیر سے نومید نہیں
جاں سپاری شجرِ بید نہیں
سلطنت دست بَدَست آئی ہے
جامِ مے خاتمِ جمشید نہیں
ہے تجلی تری سامانِ وجود
ذرّہ بے پرتوِ خورشید نہیں

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
178
کب وہ سنتا ہے کہانی میری
اور پھر وہ بھی زبانی میری
خلشِ غمزۂ خوں ریز نہ پوچھ
دیکھ خوں نابہ فشانی میری
کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یار
مگر آشفتہ بیانی میری

فاعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


0
52
مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصل
بادہ غالبؔ عرقِ بید نہیں

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
18
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل، جگر تشنۂ فریاد آیا
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقتِ سفر یاد آیا
سادگی ہائے تمنا، یعنی
پھر وہ نیرنگِ نظر یاد آیا

فاعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


0
49
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
میری وحشت تری شہرت ہی سہی
قطع کیجے نہ تعلّق ہم سے
کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی
اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
50
کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز!
کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز!
دل سے نکلا۔ پہ نہ نکلا دل سے
ہے ترے تیر کا پیکان عزیز
تاب لاتے ہی بنے گی غالبؔ
واقعی سخت ہے اور جان عزیز

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
36