Circle Image

Ar Saghar

@arsaghar

چھوڑیں رہنے دیں تلخیِ حیات پی لیجیے
پھر کبھی میسر ہی نہ ہو یہ رات پی لیجیے
بٹ رہی ہے دستِ ساقی سے بادہِ نایاب
بھول جائیں گے سارے واقعات پی لیجیے
صبحِ دم سے لے کر تم سَرِ شام پھرتے ہو
تن چکی ہے اب سر پر سرد رات پی لیجیے

1
108
سنو جاناں
تمہارے بن ہمارا دل
کسی کھنڈر کی مانند ہے
نہ ہو جس میں پجاری اب
اسی مندر کی مانند ہے
سنو جاناں

0
18
یہ مانا
تمہارے حسن کے چرچے
چاروں دانگِ عالم ہیں
تمہاری آنکھ ہرنی سی
تمہارے دانت موتی ہیں
تمہاری زلف سے اکثر

25
آنکھیں سرخ چہرے کا رنگ لال رہتا ہے
جب سے میرے دل میں تیرا خیال رہتا ہے
دے گیا وہ اپنے حصے کے دکھ سبھی مجھ کو
سنتے ہیں کہ اب وہ ہر دم نہال رہتا ہے
بجلیوں کے دَل میں ہم بوریا نشینوں کو
آشیاں کے جلنے کا احتمال رہتا ہے

0
15
سب کو تیرے شباب نے مارا
ہم کو تیرے جواب نے مارا
کوچہِ جاناں میں لا کے ہم کو
عشق خانہ خراب نے مارا
دل کو اندر سے کھوکھلا کر کے
ہجر کے اضطراب نے مارا

25
جس کو تم کہتے ہو اپنی انا کا مسئلہ
واللہ وہ ہی تو ہے میری بقا کا مسئلہ
واعظو رہنے دو میری سیہ کاری کو تم
ہے یہ میرا اور میرے خدا کا مسئلہ
مجھ کو ساری عمر درپیش تھے دو مسئلے
اک وفا کا مسئلہ اک جفا کا مسئلہ

20
لوٹ کے یوں تیرے کوچے سے ہم جاتے ہیں
جیسے دلِ بیمار سے رنج و الم جاتے ہیں
اب تو طوفاں کے جیسے میرے آنگن میں غم
دوڑ کے آتے ہیں اور آ کر تھم جاتے ہیں
ساقی ترے مے خانے سے ہم یوں اٹھ جاتے ہیں
جیسے شکتسہ بت خانے سے صنم جاتے ہیں

11
اداس دن ہیں اداس راتیں کدھر کو جائیں کسے بتائیں
کوئی نہ پوچھے جو حال دل کا کسے بتائیں کسے سنائیں
ہماری قسمت میں جو لکھا تھا اسے ہی ہر دن بھگت رہے ہیں
ہمارے مالک نے جو لکھی ہے لکھے کو کیسے بھلا مٹائیں
تمہاری فرقت میں ہر گھڑی ہم سسک رہے ہیں تڑپ رہے ہیں
تمہیں نہ آئے خیال میرا تمہارے بن ہم بھی رہ نہ پائیں

0
27
میرے دل سے جب بھی تیرا جنون نکلے گا
دیکھنا تو میرے لفظوں سے خون نکلے گا
مفلسی نے ڈیرے جب آ لگائے بستی میں
چیختا ہوا ہر گھر سے سکون نکلے گا

0
24
کاش جو پوچھتے ہم سے ہماری آخری خواہش
دار سے پہلے تم سے ملنے کی آرزو کرتے

0
19
ہم ہمیشہ مفلسی کے عذاب سہتے ہیں
کیا بتائیں تجھ کو کیا کیا جناب سہتے ہیں
ہم سہ جائیں ہنس کے دکھ خشک سالی کے اگر
پھر عذاب پانی کے بے حساب سہتے ہیں

0
20
اور اس سے زیادہ کیا بتائیں تم کو
ہم جاں لُٹا دیں جو تم اشارہ کر دو

0
11
مسئلے سارے آنکھوں کے پل میں حل کردوں
جو میں ٹوٹ کے برسوں تو جل تھل کر دوں
خواب تری آنکھوں کے ادھورے سے لگتے ہیں
گر مجھ کو دو اجازت تو میں مکمل کر دوں
چھو لوں تیرے ریشم سے رخساروں کو جو میں
خوشبو سے مہکا دوں تجھ کو صندل کر دوں

0
21
رکھتے ہیں دل میں ہم بھی جذبات بہت
تم پوچھو تو بتائیں یہ بات بہت
ہر کوئی ملا ہے مطلب کے سبب
وابستہ رہے مجھ سے مفادات بہت
میں سوچتا ہوں وہ میرا ہے یا نہیں ا
الجھے ہوئے ہیں میرے خیالات بہت

0
23
سورج کو فخر حاصل دنیا کی روشنی کا
چندا بھی آسماں پر کرنیں دکھا رہا تھا
خاموش تھے نظارے پنچھی بھی تک رہے تھے
شیرِ خدا کا بیٹا کربل کو جا رہا تھا
دینِ خدا مٹانے آیا یزید باطل
نانا کا دین اکیلا سید بچا رہا تھا

0
22
ہر بار دے کر جھوٹے دلاسے مجھ کو
یوں میری ہر بات کو ٹالا اس نے
میں جو کہتا ہوں کہ فدا ہوں تم پر
مطلب پھر بھی غلط نکالا اس نے
یوں لگتا ہے اب کے شاید برا ہو گا
ٹوٹا ہوا دل جو نہ سنبھالا اس نے

0
25
تجھ سے بچھڑنے کا اس دل کو ملال ہے بس
غم ہے الم ہے میں ہوں آشفتہ حال ہے بس
اک وجد طاری ہے ہم پر ہجر کا کہ اب تو
دل محوِ رقص ہے اور غم کا دھمال ہے بس
ہر سو دکھائی دیتے ہیں پہرے دشمنوں کے
الفت کی رہ پہ بچھا نفرت کا جال ہے بس

0
23
مزاجِ موسم بھی یار سا ہے
مچلتی لُو کے غبار سا ہے
ستم ظریفی خزاں کی دیکھو
کہ جس کا چہرہ بہار سا ہے
تھکن فراق و ستم گری سے
رگوں میں اترا بخار سا ہے

0
37
بیٹھ کے تنہا جب سوچو گے
کب تک آنسو روک سکو گے ؟
دیکھ رہے ہو کب سے مجھ کو
چپ بیٹھے ہو۔ کچھ بولو گے ؟
تم کیا جانو درد کسی کا
تم پر ہو گا تو سمجھو گے

0
32
ضمیر بکتے ہیں زردار بکتے ہیں
یہاں پہ جتنے ہیں مردار بکتے ہیں
صحافی بکتے ہیں اخبار بکتے ہیں
ارے یہاں تو قلم کار بکتے ہیں
چلی ہے میرے وطن میں ہوا کہ اب
جناب صاحبِ کردار بکتے ہیں

0
55
مٹا کر دوریاں دل سے مرا اک کام کر دینا
جہاں نفرت کے سائے ہوں محبت عام کر دینا
سحر سے شام تک یارو یہی اب کام اپنا ہے
کہیں بھی خار اگتے ہوں انہیں گلفام کر دینا
تمھیں اب یہ اجازت ہے جہاں تک ہو سکے تم سے
مجھے تم بے وفا کہنا مجھے بد نام کر دینا

22
رو رو کے ہمارا دن گزرے اور شب میں رلائے جاتے ہیں
سن سن کے ہماری آہوں کو وہ ہنستے ہیں اور گاتے ہیں
تم چھوڑ گئے ہو تو اکثر ہم افسردہ سے رہتے ہیں
سنتے ہیں کہ تنہا لوگوں پر غم بھیس بدل کر آتے ہیں
اے پردہ نشیں چل سامنے آ ہم دل کو سنبھالے بیٹھے ہیں
تم تیر چلا ؤ نفرت کے ہم اپنے جگر پر کھاتے ہیں

0
36
اداس آنگن میں تنہا رہنا ، ہماری عادت سی ہو چکی ہے
تمھیں مبارک ہوں پھول شبنم ہماری قسمت ہی سو چکی ہے
کبھی کسی نے جو ملنا چاہا چرا کے نظریں نکل دیے ہم
ہماری خوشیاں تو لٹ چکی تھیں ہماری شہرت بھی کھو چکی ہے
مرے جگر کی اجاڑ دھرتی پہ اگ نہ پائیں خوشی کی فصلیں
خراب قسمت مرے جگر میں جو بیج وحشت کے بو چکی ہے

0
38
میں لٹ چکا تو مجھے پھر وہ بچانے نکلے
میرے غم کا انہیں دکھ ہے وہ بتانے نکلے
وہ تو آئے نہ ہی آنا تھا انہیں میری طرف
ان کی آمد کے سبھی جھوٹے فسانے نکلے
میں نے سمجھا تھا جسے اپنا مسیحا لیکن
میری سانسوں کو وہی یار جلانے نکلے

0
21
محبت میں سہتے زیاں ہم رہے ہیں
تڑپتے رہے نیم جاں ہم رہے ہیں
لٹے ہیں گلوں سے گلوں کے چمن میں
گلوں کے ستم کا نشاں ہم رہے ہیں
چمن میں بہاروں کے جوبن کی خاطر
سبھی کچھ لٹا کر خزاں ہم رہے ہیں

0
38
چلو اب دور چلتے ہیں
جہاں موسم سہانا ہو
جہاں رنگیں نظارے ہوں
جہاں جھلمل ستارے ہوں
جہاں بادل ہی بادل ہوں
جہاں بارش کی جل تھل ہو

0
42
اداس شاخوں سے زرد پتے
زمیں کے دامن پہ گر رہے ہیں
زمیں سے اپنی لپیٹ چادر
یہ سرد موسم بھی جا رہا ہے
وصال رت میں دکھوں کا دامن
پکڑ پکڑ کر میں تھک چکا ہوں

0
60
اب جو اماوس کی شب سارے یار ملیں گے
ہے ممکن کہ سبھی کو سوئے مزار ملیں گے
تم دیکھو شبِ فرقت میں کبھی آ کر مجھ کو
میرے گھر سے تمھیں غم کے انبار ملیں گے
مل جاتے ہیں بہت دنیا میں شناسا لیکن
مخلص ڈھونڈو گے تو فقط دو چار ملیں گے

0
38
حسرَتِ دید اس دل میں ہے
دردِ شدید اس دل میں ہے
عشق اندر یوں کاٹتا ہے
گویا یزید اس دل میں ہے
جتنا نکالا دل سے اُسے
اُس سے مزید اس دل میں ہے

0
54
حسرَتِ دید اس دل میں ہے
دردِ شدید اس دل میں ہے
عشق یوں اندر پھرتا ہے
گویا یزید اس دل میں ہے
جتنا نکالا دل سے اُسے
اُس سے مزید اس دل میں ہے

0
27
برستی بارش میں بہتے آنسو چھپا نہ پایا تو کیا کروں گا
کسی نے پوچھا جو حال تیرا بتا نہ پایا تو کیا کروں گا
ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی چڑھا ہے خمار اس پر
نبھا کے وعدے جو کر رہا ہے نبھا نہ پایا تو کیا کروں گا
نہ دیکھوں جب تک تجھے میں جاناں قرار آئے نہ میرے دل کو
بچھڑ کے تم سے تمھاری صورت بھلا نہ پایا تو کیا کروں گا

0
48
چاند دیکھا ستارے دیکھے
خوب صورت نظارے دیکھے
بیچ دریا میں ہم نے اکثر
چھوڑ جاتے سہارے دیکھے
موجِ غم کی لپٹ میں آکر
جلتے ،دریا ، کنارے دیکھے

0
58
رندوں کا تقاضا ہے کہ مے خانے میں گھر ہو
ساقی کا یہ کہنا ہے کہ دستور نہیں یہ
آئے ہو جو موسیٰ کی طرح برق گرانے
ظالم مرا دل ہے جبلِ طور نہیں یہ
یہ مے کا اثر ہے کہ چمکتی ہیں جبینیں
اترا کسی محفل میں کبھی نور نہیں یہ

0
45
چاند دیکھا ستارے دیکھے
خوب ہم نے نظارے دیکھے
بیچ دریا میں ہم نے اکثر
چھوڑ جاتے سہارے دیکھے
ہجر کی آتشِ عناں میں
جلتے دریا کنارے دیکھے

0
25
اف ادب کا اک نگینہ گم ہوا
اردو کا تھاجو خزینہ گم ہوا
تھیں منور جس کے دم سے محفلیں
اُس ہی ہستی کا سفینہ گم ہوا

0
40
تیر ان نظروں سے جو لگے ہیں
سیدھا میرے دل کو لگے ہیں
ہر سو ہر جانب مرے گھر میں
ہجر کے ہی انبوہ لگے ہیں
مجھ کو تھاما دکھوں میں جس نے
اپنوں سے بڑھ کر تو وہ لگے ہیں

0
32
ستم دیکھتے ہیں الم دیکھتے ہیں
کسی کو خبر کیا جو ہم دیکھتے ہیں
محبت کے رستے پہ ہم نے مسلسل
جو کھائے ہیں دل پر ستم دیکھتے ہیں
چھپا کر زمانے کی نظروں سے خود کو
کمالِ اسیرِ عدم دیکھتے ہیں

0
72
زخم اندر سے کاٹتے ہیں اب
تیری فرقت میں جو لگے ہیں
مجھ کو تھاما دکھوں میں جس نے
اپنوں سے بڑھ کر تو وہ لگے ہیں
ہر سو ہر جانب مرے گھر میں
ہجر کے ہی انبوہ لگے ہیں

0
35
یوں خود کو گرفتارِ بلا رکھا ہے
گویا کسی مقتل کو سجا رکھا ہے
گر بس میں ہو تو آگ لگا دوں دل کو
کم بخت نے مدت سے ستا رکھا ہے
اور ہم دل والوں کے مقدر میں یہاں
شبِ فرقت کے سوا کیا رکھا ہے

0
58
کپڑے بدل رکھے ہیں زلفیں بھی سجا رکھی ہیں
تیرے ملنے کی سبھی شرطیں روا رکھی ہیں
تو نہیں ہے تو تیری یادوں کی لہروں پر
کشتیاں الفت کی ہم نے چلا رکھی ہیں
قندیلیں سرِ شام سے روشن ہیں دکھ کی
ویراں آنگن کے کونوں سے لگا رکھی ہیں

0
43
ہم اہلِ تمنا سوئے حرم
دل تھام کے جب بھی نکلیں گے
ہر گام پہ سورج نکلے گا
ہر ظلم کی شبِ ظلمت کا
انجام نرالا کر دیں گے
ہر سمت اجالا کر دیں گے

0
33
سنے اے کاش آ کر کوئی داستاں میری
دعا یہ ہے کہ مرا ساتھ دے زباں میری
نقار خانے میں طوطی کی صوت ہو جیسے
سنی گئی نہ یوں افلاک تک فغاں میری
مزاجِ یار کے انداز جو نرالے ہیں
کرے گا فکر بھلا وہ کہاں کہاں میری

0
35
ہر بات پہ مجھ کو یوں رسوا نہ کیا کر
کچھ اپنی کہا کر کچھ میری بھی سنا کر
کچھ درد بتانے کے قابل نہیں ہوتے
چہرے کے تاثر کو مری جان پڑھا کر
آخر کب تک یوں درِ پردہ رہو گے تم
آؤ مرے دل سے کھیلو سامنے آ کر

0
31
ہوئے خاک برد آشیا ں کیسے کیسے
سہے ہم نے اب تک زیاں کیسے کیسے
کہ دیکھی ہے روتی، جواں بیٹوں کی ماں
گنوا بیٹھی ہے لعل، ماں کیسے کیسے
گذر جو گئی ہے بہاراں چمن سے
جلائے گی گل، اب خزاں کیسے کیسے

0
52
ارادہ کر لیا میں نے فلک سے تارے لاؤں گا
تمھاری مانگ بھر دوں گا تمھیں دلہن بناؤں گا
چمن سے مانگ کر کلیاں میں رکھ دوں تیرے قدموں پر
بہاروں سے چرا کر گل ترے گیسو سجاؤں گا
خدا نے خود تراشا ہے تمھیں مرجان کی صورت
تمہیں موتی، تمہیں ہیرا ،تمہیں نیلم بلاؤں گے

0
38
داغ پھر نئے دل پر ہم سجائے بیٹھے ہیں
کچھ تو عیاں ہیں لیکن کچھ چھپائے بیٹھے ہیں
عشق سے کنارہ کر کے یوں لگتا ہے اب تو
گویا آگ تھی دل میں جو بجھائے بیٹھے ہیں
یہ خلوص کی شدت ہے ، کہ رسوا ہو کر بھی
لوٹ کر تری محفل میں، پھر آئے بیٹھے ہیں

0
62
بات چھوٹی سی تھی کیا سے کیا ہوگئی
بد گمانی بڑھی اور بلا ہو گئی
بے رخی ان کے چہرے پہ جچتی نہیں
اب وہی ان کی قاتل ادا ہو گئی
ایک مدت سے چاہا تھا ہم نے تجھے
چند لمحوں میں چاہت فنا ہو گئی

0
83
لوگ لوگوں کے جب سے خدا ہو گئے
قتل کرنے لگے کیا سے کیا ہو گئے
پہلے رہتے تھے مل کر سبھی ساتھ میں
پھر جو نفرت بڑھی سب جدا ہو گئے
ختم ہوتے گئے زندگی کی طرح
کیا وہ دن تھے جو ہم سے خطا ہو گئے

0
159
ڈال پہ پھر سے پھول کھلے ہیں
بھنورے کلیاں آن ملے ہیں
تیرا وعدہ آنے کا تھا
میرا ساتھ نبھانے کا تھا
اپنا وعدہ پورا کر دو
آؤ میرا جیون بھر دو

0
47
رسمِ وفا اس ادا سے میں نبھاتا گیا
جب جیسے تو نے کہا میں سر کٹاتا گیا
کوئی ٹھکانہ نہیں تھا عشق کی راہ میں
بس منزلِ شوق کی میں خاک اڑاتا گیا
صد بار تیرے تصور نے دیا حوصلہ
ہر بار اپنی جاں میں تجھ پر لٹاتا گیا

0
72
ہے خوشبو کا مخزن پسینہ تمہارا
گلوں نے سنبھالا خزینہ تمھارا
سجے ہیں جہاں میں ہزاروں مدائن
مگر سب سے افضل مدینہ تمھارا
مری کشتی کو طوفاں سے خود بچانا
ہیں لنگر تمھارے سفینہ تمھارا

0
70
آؤ شہرِ خموشاں چلتے ہیں
ٹھہرو پھر پا بجولاں چلتے ہیں
واپسی کا نہیں ارادہ جب
تو خراماں خراماں چلتے ہیں
عاجزی کام آئے گی شاید
کر کے چاکِ گریباں چلتے ہیں

0
49
تجھ کو پانا پا کر کھونا سیکھ لیا ہے
سچ تو یہ ہے اپنا ہونا سیکھ لیا ہے
تو نے چاہا تیری خاطر ہم نے جاناں
رو کر ہنسنا ہنس کر رونا سیکھ لیا ہے
ڈر تھا کوئی توڑ نہ ڈالے میرے سپنے
اپنے ارماں خود ہی ڈھونا سیکھ لیا ہے

0
107
اداس لوگوں کے پاس جا کر
ملے گا کیا تجھ کو غم سنا کر
ابھی تو پہلی خزاں ہے جاناں
ابھی سے بیٹھے ہو منھ پھلا کر
تمھاری حالت بتا رہی ہے
کہ چوٹ کھائی ہے دل لگا کر

0
51
اک زخم اور دل کا سہ تو سکتے ہیں
تیرے بن ہم بھی رہ تو سکتے ہیں
جانا ہے تجھے لازم یہ جانتے ہیں
کچھ لمحے رکنے کا کہ تو سکتے ہیں
ساحل پہ کھڑی ریت کی دیوار ہیں ہم
موجوں کے طلاطم سے ڈھ تو سکتے ہیں

0
49
وہ جاتے جاتے صبر کی تلقین کر گیا
مجھ میں مری ہی لاش کی تدفین کر گیا
خود تو گیا سکون سے خوشیاں سمیٹ کر
ہستی اجاڑ کر مری غمگین کر گیا
ٹوٹا ہوا ہوں شاخ سے یہ دیکھ کر مجھے
طوفاں کی نذر پھر مرا گلچین کر گیا

0
6
158
یہ پھول چہرہ حسین آنکھیں
ملیں تجھے دل نشین آنکھیں
مجھے تو مجنوں بنا گئی ہیں
دکھا کے جلوہ مَہِین آنکھیں
اٹھا کے پلکیں گھما کے نظریں
نہ ڈال مجھ پر متین آنکھیں

0
127
اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو
اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو
سارے عالم میں پھیلا ترا نور ہے
دل میں موجود ہے مثلِ مسطور ہے
پھر بھی پردے میں رہنا ہی منظور ہے
مالکِ کن فکاں لا مکاں تو ہی تو

1
72
رات بھر ہم جام ٹکراتے رہیں گے
غم بھلا کر دل کو بہلاتے رہیں گے
ساقیا چھوڑو کسی کے جانے کا دکھ
لوگ یونہی آتے اور جاتے رہیں گے
گر پریشاں ہیں تو پی کر غم مٹائیں
آپ کب تک یونہی شرماتے رہیں گے

0
103
تمھیں یاد بہت میں آؤں گا
تری جھیل سے گہری آنکھوں سے
تری تیر کے جیسی پلکوں پر
ترے برف کے جیسے گالوں پر
ترے الجھے بکھرے بالوں پر
جب ٹوٹ کے آنسو بکھرے گا

0
134
آگئے آ گئے تاجدار آ گئے
غم کے ماروں کے دل کا قرار آ گئے
ہو مبارک تمھیں عاصی او پاپی او
رب کی رحمت ہوئی ذی وقار آ گئے
ظلم کی رات میں سب کے دکھ بانٹنے
درد مند آ گئے غم گسار آ گئے

138
بڑھ رہی ہے تشنگی ساقی خدارا جام لاؤ
ہم ابھی پر جوش ہیں پھر سے دوبارہ جام لاؤ
ہوش میں آئے تو لوٹا دیں گے سب کو پائی پائی
کچھ کرو اب تو کہیں سے بھی ادھارا جام لاؤ
رت جواں ہے جا چکی لوٹا خزاں کا پھر سے موسم
گلشنِ غمگین میں آئے بہارا جام لاؤ

0
125
میں لفظ خوشبو ہوں پھولوں میں بسا دیجیے
پھر اپنے آنچل سے خود مجھ کو ہوا دیجیے
ڈر لگتا ہے تنہا اکثر شبِ گوں میں مجھے
خود انگلیاں پھیر بالوں میں سلا دیجیے

0
54
ادھورے خوابوں کا رونا ہے غزل
بحور میں غم کو بونا ہے غزل
غموں کے صابن اور آبِ ہجر سے
جگر کے زخموں کا دھونا ہے غزل
سنے اِسے عاشق تو ملے سکوں
یوں مرضِ الفت کا ٹونا ہے غزل

0
2
91
عشق بن اب کوئی کام چلتا نہیں
اور ملے تو سنبھالے سنبھلتا نہیں
یہ وہ دیپک ہے خونِ جگر سے بھی اب
ہم جلانا بھی چاہیں تو جلتا نہیں
عالمِ ہجر اب کیا بتائیں تجھے
لمبی راتیں ہوئیں دن تو ڈھلتا نہیں

0
79
رب کا محبوب آیا ہے میرا نبی
حق کا پیغام لایا ہے میرا نبی
ہر طرف ان کی آمد کے چرچے ہوئے
پتے پتے نے گایا ہے میرا نبی
سدرۃ المنتہیٰ تک ہے ان کا نشاں
آسماں سے ہو آیا ہے میرا نبی

0
99
اب تو آ بھی جا کہ تجھ کو گلے لگانے کو جی چاہتا ہے
اور پی کر جام ترے ہونٹوں کا بہک جانے کو جی چاہتا ہے
اب تو آبھی جا کہ اک مدت سے دل کو بے چینی ہے بہت
سر رکھ کر جھولی میں غم سارے سنانے کو جی چاہتا ہے

266
درد ہجر تنہائی اور میں
چیخ آہ دو ہائی اور میں
کافی دیر تک تیری مہندی پر
خوب روئے شہنائی اور میں
لڑتے ہیں اکیلے جا کر کبھی
تیری یاد جولائی اور میں

0
123
دیپ جلا کے بیٹھے ہیں
آس لگا کے بیٹھے ہیں
جانے وہ کب رونق بخشیں
گھر کو سجا کے بیٹھے ہیں
اک بے وفا کی خاطر ہم
اشک بہا کے بیٹھے ہیں

0
113
دردوں کو ہجرت کرنے دو
مدت سے رہتے تھے دل میں

0
103
کر کے یاد تجھے اکثر لہو روتے ہیں
نگری نگری کو چہ کو چہ کو بکو روتے ہیں
آلودہ بہ خوں جب ٹپکا مری آنکھوں سے
قطرہ شبنمی ! تو جام و سبو روتے ہیں
اب تو یاد نہیں کچھ حال ہمیں اپنا
ہنستے ہیں کبھو تو یونہی کبھو روتے ہیں

0
60
لوٹا ہے شب میں ہاتھوں پر چھالے لے کر
نکلا جو گھر سے خوابوں کے جالے لے کر
دن ڈھلتے ہی وہ لوٹ کر آئے گا اب
گھر کی طرف پھر ہاتھ منہ کالے لے کر
ٹوٹا کسی کا جوتا کوئی بھوکا ہے
بیٹھے ہیں معصوم آج پھر نالے لے کر

0
82
کل شب مجھے اس نے پکارا کیوں ہے
پھر زہر یہ دل میں اتارا کیوں ہے
منظور تھا اس کو بِچَھڑْنا مجھ سے
تو وقت پھر اتنا گزارا کیوں ہے
ہم نے سنا تھا کارِ منفعت ہے
پھر اس محبت میں خسارا کیوں ہے

0
92
نا آشنائی بڑھتی جاتی ہے توبہ توبہ
یوں بے وفائی بڑھتی جاتی ہے توبہ توبہ
تھی خواہشِ دل و جاں تو وصل کی مگر اب
ان سے جدائی بڑھتی جاتی ہے توبہ توبہ
رنجور حال اپنا دکھتا ہے اس قدر کہ
اب جگ ہنسائی بڑھتی جاتی ہے توبہ توبہ

0
65
سچ یہ ہمیشہ بڑے بڑوں نے کہا ہے
عشق سے بچنا یہ عشق بری بلا ہے

0
93
شب بھر دل سے غم کا بوجھ اتارا کرنا
پھر ایسا کرنا کچھ روز گزارا کرنا
دل گھبرائے تو لہروں کا کنارے پر سے
تم تنہا گم سم چپ چاپ نظارا کرنا
لازم ہے موجوں سے ربط بنا کر رکھنا
دریا میں جب بھی کشتی کو اتارا کرنا

0
84
یوں تنہا چھوڑنے والے ابھی تو رات باقی تھی
ابھی تو غم بتانے تھے ہماری بات باقی تھی
تمھیں مطلوب تھا ہم سے خفا رہنا جدا رہنا
ہماری ذات کا محور تمھاری ذات باقی تھی
ہمارے ضبط کا بندھن ہمارے ساتھ تھا ورنہ
ہماری نم نگاہوں میں ابھی برسات باقی تھی

0
183
ذرا خواہش تو دیکھو ابنِ آدم کی زمانے میں
اسے اک پر سکوں گھر چاہیے اس قید خانےمیں
نگاہِ مردِ کامل اور کہاں تو عاصی نا فرماں
بہت ہی فرق ہے گدھ اور طوطی کے ترانے میں
ارے یہ دار کر جگ ہے میاں مت دل لگا اپنا
مری سن اب بھلائی ہوگی اس کو بھول جانے میں

120
شام کو سورج ڈھلتا ہو گا
غم کی آگ میں جلتا ہو گا
ناگن زلفیں سجتی ہوں گی
سرمہ آنکھ میں ڈلتا ہو گا
اس نے کہا تھا تنہا جی لیں
دم اب اس کا نکلتا ہوگا

59
اڑانے لگ گئی ہے باد صر صر آشیانے کو
کٹی ہے عمرِرفتہ میری جس گھر کے بنانے کو
نہ کر تو غیر سے مل کر یوں میرے قتل کی باتیں
ترا بس ہجر کافی ہے مجھے زندہ جلانے کو
سرِ رہ حال دل کا کھول کر سب رکھ دیا میں نے
نجانے کب کوئی آ کر سنے میرے فسانے کو

0
52
نشیلی سرد راتوں میں صنم جب پاس ہوتا ہے
محبت کا تعلق کا تبھی احساس ہوتا ہے
مجھے سوچے مجھے چاہے مجھے اپنا بنا لے وہ
بنا اس کی محبت کے جگر بھی یاس ہوتا ہے
سنا ہے میں نے غیروں کی وہ محفل میں بھی جاتا ہے
کہیں مجھ سے نہ چھن جائے یہی وسواس ہوتا ہے

0
134
ملنے کا اس نے مجھ سے جو وعدہ نہیں کیا
میں نے بھی بار بار تقاضا نہیں کیا
جب سے گیا ہے وہ مجھے بے آس چھوڑ کر
جینے کا تب سے میں نے ارادہ نہیں کیا
مانگی نہیں ہے بھیک کسی کم نگاہ سے
کشکول توڑ ڈالا کشادہ نہیں کیا

93
اکیلے میں تم جو گا رہے ہو
یہ گیت کس کو سنا رہے ہو
یہ بھیگی آنکھیں یہ زرد چہرہ
ارے کیوں مجھ سے چھپا رہے ہو
تمھیں تو خوشیوں سے ہی شغف تھا
یہ اشک اب کیوں بہا رہے ہو

0
88
خواب آنکھوں سے نکالے نہیں جاتے
درد اب ہم سے سنبھالے نہیں جاتے
بڑھے ہیں غیر سے جب ان کے مراسم
مجھ کو تو اب جاں کے لالے نہیں جاتے
وہ اگر میرا ہے تو پھر کہے مجھ سے
ورنہ ایسے مرے نالے نہیں جاتے

71
غم دیدہ فضاؤں سے لپٹ کر رویا
پھولوں کی قباؤں سے لپٹ کر رویا
جس در سے ملا مجھے رونے کا ہنر
اس در کی ہواؤں سے لپٹ کر رویا
پھر بعد ترے جب کبھی ساون برسا
گھنگھور گھٹاؤں سے لپٹ کر رویا

2
83
دل سے جو نکلی ہے صدا سن لو
داستانِ غمِ وفا سن لو
تہمتِ عشق جب لگی گل پر
خار سے غنچوں نے کہا سن لو
سنتے ہو بے کسوں کی یا مالک
ہم اسیروں کی بھی دعا سن لو

75
پھر شب کے تارے سو چکے ہیں
سارے کے سارے سو چکے ہیں
اب تو ہر سو زمامِ شب ہے
دن کے نظارے سو چکے ہیں
آتش رخسار سے لو برسی
دل کے نقارے سو چکے ہیں

0
78
آرزوِ سحر میں رات بتائی میں نے
شمع کئی بار جلا کے بجھائی میں نے
جب بھی خیالِ رقیباں نے کیا بے کل مجھے
دشتِ تخیل کو آواز لگائی میں نے
لوٹی پریشاں سی میری صدا کی بازگشت
اپنی کہانی یو ں خود کو ہی سنائی میں نے

71
وہ یاد آیا بے وفا دل رو پڑا
آنسو بہے بن کے گھٹا دل رو پڑا
رب سے اسے مانگا دعا میں ہر گھڑی
دل سے ہے نکلی جب دعا دل رو پڑا
بے چین جیون ہے مرا اب کیا کروں
جب سے ہوئے زخمی جدا دل رو پڑا

0
145
ہم درد کے مارے ہیں دن رات سسکتے ہیں
ہم روتے نہیں لیکن جذبات سسکتے ہیں
اک شہرِ خموشاں کے ویران کنارے پر
ہم کنج نشینوں کے مزارات سسکتے ہیں
ہم لوگ نرالے ہیں خاموش ہمارے دکھ
ہم خود تو نہیں کہتے یہ نغمات سسکتے ہیں

0
106
پکڑ کر ہاتھ میرا تو مجھے اتنا بتا دینا
کبھی جو ہم نہ مل پائیں بتادو پھر کرو گے کیا
مجھے بھی روک سکتا ہے زمانہ پاس آنے سے
تمھیں بھی لوگ روکیں گے بتا دو پھر رکو گے کیا
محبت نے ستایا ہے ہمیشہ خوب بڑھ چڑھ کر
یہ بازی جاں کی بازی ہے بتا دو پھر ہرو گے کیا

0
111
جو جام ساقی تیری محفل میں چل رہے ہیں
یوں نشہ ہم میں اور ہم نشے میں ڈھل رہے ہیں
پی پی کے ہو چکے ہیں مخمور کافی حد تک
دل میں چھپے تھے کب سے ارماں نکل رہے ہیں
تھامو خدارا ہم کو اے رندو ہوش والو
ہم پہلے لڑ کھڑائے اب تو پھسل رہے ہیں

2
125
ہم خونِ جگر بہا کے روئے
خط آخری بھی جلا کے روئے
قاصد نے خبر دی جب بھی آ کر
قاصد کو گلے لگا کے روئے
جب بھی کوئی ہم سے ملنے آیا
ہم اپنی کتھا سنا کے روئے

0
79
لوٹ آتے ہیں سبھی درد و غم شام کے بعد
ٹوٹ جاتے ہیں تبھی پھر سے ہم شام کے بعد
شام سے پہلے وہ رخصت ہوا مجھ سے کبھی
اب تو جیسے مرا گھٹتا ہے دم شام کے بعد
رتجگے جب سے مری آنکھوں میں آ بسے ہیں
رہتی ہے تب سے مری آنکھ نم شام کے بعد

150
ترا عشق تھا کوئی حرز جاں مرے جسم و جاں میں اتر گیا
کوئی موج تھی جو ٹھہر گئی کوئی طوفاں تھا جو گذر گیا
تھا وہ ذوق پھر یا خمار تھا یونہی سر پہ میرے سوار تھا
میں جو رتجگوں سے ملا نہ تھا ترے عشق سے ہی بکھر گیا
ترے ساتھ جینا محال تھا ترے بعد مرنا کمال تھا
تھی عجیب حالتِ زندگی کبھی جی اٹھا کبھی مر گیا

2
98
خواہشِ دل کو دبا رکھا ہے
غم کو سینے میں چھپا رکھا ہے
لاج رکھنا مری اے حافظِ کل
طوفاں میں لا کے دیا رکھا ہے
تم جسے کہتے تھے مونس ہجراں
اس نے غیروں سے نبھا رکھا ہے

73
زمانے اب وہ پرانے نہیں رہے
محبتوں کے ترانے نہیں رہے
کسے سنائیں گے اب داستان غم
کہ ملنے کے تو بہانے نہیں رہے
کدورتوں کو مٹا دے دلوں سے جو
محبتوں میں نشانے نہیں رہے

0
76
ہم محبت کا خسارا نہیں کرتے
وہ سنے ناں تو اشارا نہیں کرتے
روئیں گے سر کو سرہانے سے لگا کر
اب جو ملنا بھی گوارا نہیں کرتے
چھوڑ کر جائے تو پھر مت اسے روکو
جانے والوں کو پکارا نہیں کرتے

0
103
انا سے پہلو بچا کے چلنا
سبھی کو اپنا بنا کے چلنا
نہ تم کو ناکامی ڈھونڈھ پائے
نشان سارے مٹا کے چلنا
خراج مانگیں خزائیں تم سے
تو پھول شبنم لٹا کے چلنا

0
94
جب سے دل کا سپنا ٹوٹا
روئے دھوئے سینہ کوٹا
غم ہی غم ہیں ہر سو اب تو
سکھ کا آنگن ہم سے چھوٹا
نت وفا کی قسمیں دے کر
مجھ کو ہر دم تم نے لوٹا

0
126
غم کی فریاد بھی مہجور ہوا کرتی ہے
شب کے مارے ہوئے لوگوں سے ملا کرتی ہے
اس نے چھوڑا تو مرا چین بھی روٹھا مجھ سے
اب تو وحشت ہی مرے گھر میں رہا کرتی ہے
تم تو سنتے بھی نہیں ہو مرا افسانہ غم
ورنہ دکھ درد تو خلقت بھی سنا کرتی ہے

0
60
لمس خوشبو سے ہے ملا ابھی
تازہ پھول کوئی کھلا ابھی
میری تشنگی ہے عروج پر
بس تو جام نینن پلا ابھی
اب نہ چھیڑ ساقی تو ساز دل
میری پیاس ہی تو بجھا ابھی

0
84
کیا تھا دل تمھی نے جو شکستہ بھول بیٹھے ہو
بڑے ظالم ہو دلبر من خُجَستہ بھول بیٹھے ہو
دکھا منزل کا رستہ تم وفا کی بات کرتے تھے
بتا دو پھر بھلا کیسے وہ رستہ بھول بیٹھے ہو
ہوا تھا ساتھ جینے اور وعدہ ساتھ مرنے کا
لکھا تھا جن کتابوں میں وہ بستہ بھول بیٹھے ہو

0
251
درد بڑھ کر عیاں نہ ہو جائے
فیصلہ پھر یہاں نہ ہو جائے
وہ جو کہنے لگا ہے اپنا مجھے
مجھ سے پھر بدگماں نہ ہو جائے
سی لیے لب مگر نگاہوں سے
جو چھپایا بیاں نہ ہو جائے

0
159