Circle Image

Ar Saghar

@arsaghar

ارادہ کر لیا میں نے فلک سے تارے لاؤں گا
تمھاری مانگ بھر دوں گا تمھیں دلہن بناؤں گا
چمن سے مانگ کر کلیاں میں رکھ دوں تیرے قدموں پر
بہاروں سے چرا کر گل ترے گیسو سجاؤں گا
قسم کھا کر یہ کہتا ہوں نہیں ہے دوسرا تم سا
تمھاری ہر ادا پر اب میں اپنی جاں لٹاؤں گا

0
5
داغ پھر نئے دل پر ہم سجائے بیٹھے ہیں
کچھ تو عیاں ہیں لیکن کچھ چھپائے بیٹھے ہیں
عشق سے کنارہ کر کے یوں لگتا ہے اب تو
گویا آگ تھی دل میں جو بجھائے بیٹھے ہیں
یہ خلوص کی شدت ہے ، کہ رسوا ہو کر بھی
لوٹ کر تری محفل میں، پھر آئے بیٹھے ہیں

0
6
بات چھوٹی سے تھی کیا سے کیا ہوگئی
بد گمانی بڑھی اور بلا ہو گئی
بے رخی ان کے چہرے پہ جچتی نہیں
اب وہی ان کی قاتل ادا ہو گئی
ایک مدت سے چاہا تھا ہم نے تجھے
چند لمحوں میں چاہت فنا ہو گئی

0
9
لوگ لوگوں کے جب سے خدا ہو گئے
قتل کرنے لگے کیا سے کیا ہو گئے
پہلے رہتے تھے مل کر سبھی ساتھ میں
ایسی نفرت بڑھی سب جدا ہو گئے
وہ محبت وہ الفت نہ باقی رہی
خوب دن تھے جو ہم سے خطا ہو گئے

0
21
ڈال پہ پھر سے پھول کھلے ہیں
بھنورے کلیاں آن ملے ہیں
تیرا وعدہ آنے کا تھا
میرا ساتھ نبھانے کا تھا
اپنا وعدہ پورا کر دو
آؤ میرا جیون بھر دو

0
8
رسمِ وفا اس ادا سے میں نبھاتا گیا
جب جیسے تو نے کہا میں سر کٹاتا گیا
کوئی ٹھکانہ نہیں تھا عشق کی راہ میں
بس منزلِ شوق کی میں خاک اڑاتا گیا
صد بار تیرے تصور نے دیا حوصلہ
ہر بار اپنی جاں میں تجھ پر لٹاتا گیا

0
8
ہے خوشبو کا مخزن پسینہ تمہارا
گلوں نے سنبھالا خزینہ تمھارا
سجے ہیں جہاں میں ہزاروں مدائن
مگر سب سے افضل مدینہ تمھارا
مری کشتی کو طوفاں سے خود بچانا
ہیں لنگر تمھارے سفینہ تمھارا

0
13
آؤ شہرِ خموشاں چلتے ہیں
ٹھہرو پھر پا بجولاں چلتے ہیں
واپسی کا نہیں ارادہ جب
تو خراماں خراماں چلتے ہیں
عاجزی کام آئے گی شاید
کر کے چاکِ گریباں چلتے ہیں

0
13
تجھ کو پانا پا کر کھونا سیکھ لیا ہے
سچ تو یہ ہے اپنا ہونا سیکھ لیا ہے
تو نے چاہا تیری خاطر ہم نے جاناں
رو کر ہنسنا ہنس کر رونا سیکھ لیا ہے
ڈر تھا کوئی توڑ نہ ڈالے میرے سپنے
اپنے ارماں خود ہی ڈھونا سیکھ لیا ہے

0
17
اداس لوگوں کے پاس جا کر
ملے گا کیا تجھ کو غم سنا کر
ابھی تو پہلی خزاں ہے جاناں
ابھی سے بیٹھے ہو منھ پھلا کر
تمھاری حالت بتا رہی ہے
کہ چوٹ کھائی ہے دل لگا کر

0
16
اک زخم اور دل کا سہ تو سکتے ہیں
تیرے بن ہم بھی رہ تو سکتے ہیں
جانا ہے تجھے لازم یہ جانتے ہیں
کچھ لمحے رکنے کا کہ تو سکتے ہیں
ساحل پہ کھڑی ریت کی دیوار ہیں ہم
موجوں کے طلاطم سے ڈھ تو سکتے ہیں

0
11
وہ جاتے جاتے صبر کی تلقین کر گیا
مجھ میں مری ہی لاش کی تدفین کر گیا
خود تو گیا سکون سے خوشیاں سمیٹ کر
ہستی اجاڑ کر مری غمگین کر گیا
ٹوٹا ہوا ہوں شاخ سے یہ دیکھ کر مجھے
طوفاں کی نذر پھر مرا گلچین کر گیا

0
6
60
یہ پھول چہرہ حسین آنکھیں
ملیں تجھے دل نشین آنکھیں
مجھے تو مجنوں بنا گئی ہیں
دکھا کے جلوہ مَہِین آنکھیں
اٹھا کے پلکیں گھما کے نظریں
نہ ڈال مجھ پر متین آنکھیں

0
19
اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو
اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو
سارے عالم میں پھیلا ترا نور ہے
دل میں موجود ہے مثلِ مسطور ہے
پھر بھی پردے میں رہنا ہی منظور ہے
مالکِ کن فکاں لا مکاں تو ہی تو

1
20
رات بھر ہم جام ٹکراتے رہیں گے
غم بھلا کر دل کو بہلاتے رہیں گے
ساقیا چھوڑو کسی کے جانے کا دکھ
لوگ یونہی آتے اور جاتے رہیں گے
گر پریشاں ہیں تو پی کر غم مٹائیں
آپ کب تک یونہی شرماتے رہیں گے

0
17
تمھیں یاد بہت میں آؤں گا
تری جھیل سے گہری آنکھوں سے
تری تیر کے جیسی پلکوں پر
ترے برف کے جیسے گالوں پر
ترے الجھے بکھرے بالوں پر
جب ٹوٹ کے آنسو بکھرے گا

0
32
آگئے آ گئے تاجدار آ گئے
غم کے ماروں کے دل کا قرار آ گئے
ہو مبارک تمھیں عاصی او پاپی او
رب کی رحمت ہوئی ذی وقار آ گئے
ظلم کی رات میں سب کے دکھ بانٹنے
درد مند آ گئے غم گسار آ گئے

44
بڑھ رہی ہے تشنگی ساقی خدارا جام لاؤ
ہم ابھی پر جوش ہیں پھر سے دوبارہ جام لاؤ
ہوش میں آئے تو لوٹا دیں گے سب کو پائی پائی
کچھ کرو اب تو کہیں سے بھی ادھارا جام لاؤ
رت جواں ہے جا چکی لوٹا خزاں کا پھر سے موسم
گلشنِ غمگین میں آئے بہارا جام لاؤ

0
48
میں لفظ خوشبو ہوں پھولوں میں بسا دیجیے
پھر اپنے آنچل سے خود مجھ کو ہوا دیجیے
ڈر لگتا ہے تنہا اکثر شبِ گوں میں مجھے
خود انگلیاں پھیر بالوں میں سلا دیجیے

0
20
ادھورے خوابوں کا رونا ہے غزل
بحور میں غم کو بونا ہے غزل
غموں کے صابن اور آبِ ہجر سے
جگر کے زخموں کا دھونا ہے غزل
سنے اِسے عاشق تو ملے سکوں
یوں مرضِ الفت کا ٹونا ہے غزل

0
2
37
عشق بن اب کوئی کام چلتا نہیں
اور ملے تو سنبھالے سنبھلتا نہیں
یہ وہ دیپک ہے خونِ جگر سے بھی اب
ہم جلانا بھی چاہیں تو جلتا نہیں
عالمِ ہجر اب کیا بتائیں تجھے
لمبی راتیں ہوئیں دن تو ڈھلتا نہیں

0
35
رب کا محبوب آیا ہے میرا نبی
حق کا پیغام لایا ہے میرا نبی
ہر طرف ان کی آمد کے چرچے ہوئے
پتے پتے نے گایا ہے میرا نبی
سدرۃ المنتہیٰ تک ہے ان کا نشاں
آسماں سے ہو آیا ہے میرا نبی

0
32
اب تو آ بھی جا کہ تجھ کو گلے لگانے کو جی چاہتا ہے
اور پی کر جام ترے ہونٹوں کا بہک جانے کو جی چاہتا ہے
اب تو آبھی جا کہ اک مدت سے دل کو بے چینی ہے بہت
سر رکھ کر جھولی میں غم سارے سنانے کو جی چاہتا ہے

63
درد ہجر تنہائی اور میں
چیخ آہ دو ہائی اور میں
کافی دیر تک تیری مہندی پر
خوب روئے شہنائی اور میں
لڑتے ہیں اکیلے جا کر کبھی
تیری یاد جولائی اور میں

0
24
دیپ جلا کے بیٹھے ہیں
آس لگا کے بیٹھے ہیں
جانے وہ کب رونق بخشیں
گھر کو سجا کے بیٹھے ہیں
اک بے وفا کی خاطر ہم
اشک بہا کے بیٹھے ہیں

0
39
دردوں کو ہجرت کرنے دو
مدت سے رہتے تھے دل میں

0
29
کر کے یاد تجھے اکثر لہو روتے ہیں
نگری نگری کو چہ کو چہ کو بکو روتے ہیں
آلودہ بہ خوں جب ٹپکا مری آنکھوں سے
قطرہ شبنمی ! تو جام و سبو روتے ہیں
اب تو یاد نہیں کچھ حال ہمیں اپنا
ہنستے ہیں کبھو تو یونہی کبھو روتے ہیں

0
23
لوٹا ہے شب میں ہاتھوں پر چھالے لے کر
نکلا جو گھر سے خوابوں کے جالے لے کر
دن ڈھلتے ہی وہ لوٹ کر آئے گا اب
گھر کی طرف پھر ہاتھ منہ کالے لے کر
ٹوٹا کسی کا جوتا کوئی بھوکا ہے
بیٹھے ہیں معصوم آج پھر نالے لے کر

0
41
کل شب مجھے اس نے پکارا کیوں ہے
پھر زہر یہ دل میں اتارا کیوں ہے
منظور تھا اس کو بِچَھڑْنا مجھ سے
تو وقت پھر اتنا گزارا کیوں ہے
ہم نے سنا تھا کارِ منفعت ہے
پھر اس محبت میں خسارا کیوں ہے

0
26
نا آشنائی بڑھتی جاتی ہے توبہ توبہ
یوں بے وفائی بڑھتی جاتی ہے توبہ توبہ
تھی خواہشِ دل و جاں تو وصل کی مگر اب
ان سے جدائی بڑھتی جاتی ہے توبہ توبہ
رنجور حال اپنا دکھتا ہے اس قدر کہ
اب جگ ہنسائی بڑھتی جاتی ہے توبہ توبہ

0
28
سچ یہ ہمیشہ بڑے بڑوں نے کہا ہے
عشق سے بچنا یہ عشق بری بلا ہے

0
18
شب بھر دل سے غم کا بوجھ اتارا کرنا
پھر ایسا کرنا کچھ روز گزارا کرنا
دل گھبرائے تو لہروں کا کنارے پر سے
تم تنہا گم سم چپ چاپ نظارا کرنا
لازم ہے موجوں سے ربط بنا کر رکھنا
دریا میں جب بھی کشتی کو اتارا کرنا

0
30
یوں تنہا چھوڑنے والے ابھی تو رات باقی تھی
ابھی تو غم بتانے تھے ہماری بات باقی تھی
تمھیں مطلوب تھا ہم سے خفا رہنا جدا رہنا
ہماری ذات کا محور تمھاری ذات باقی تھی
ہمارے ضبط کا بندھن ہمارے ساتھ تھا ورنہ
ہماری نم نگاہوں میں ابھی برسات باقی تھی

0
55
ذرا خواہش تو دیکھو ابنِ آدم کی زمانے میں
اسے اک پر سکوں گھر چاہیے اس قید خانےمیں
نگاہِ مردِ کامل اور کہاں تو عاصی نا فرماں
بہت ہی فرق ہے گدھ اور طوطی کے ترانے میں
ارے یہ دار کر جگ ہے میاں مت دل لگا اپنا
مری سن اب بھلائی ہوگی اس کو بھول جانے میں

35
شام کو سورج ڈھلتا ہو گا
غم کی آگ میں جلتا ہو گا
ناگن زلفیں سجتی ہوں گی
سرمہ آنکھ میں ڈلتا ہو گا
اس نے کہا تھا تنہا جی لیں
دم اب اس کا نکلتا ہوگا

26
اڑانے لگ گئی ہے باد صر صر آشیانے کو
کٹی ہے عمرِرفتہ میری جس گھر کے بنانے کو
نہ کر تو غیر سے مل کر یوں میرے قتل کی باتیں
ترا بس ہجر کافی ہے مجھے زندہ جلانے کو
سرِ رہ حال دل کا کھول کر سب رکھ دیا میں نے
نجانے کب کوئی آ کر سنے میرے فسانے کو

0
22
نشیلی سرد راتوں میں صنم جب پاس ہوتا ہے
محبت کا تعلق کا تبھی احساس ہوتا ہے
مجھے سوچے مجھے چاہے مجھے اپنا بنا لے وہ
بنا اس کی محبت کے جگر بھی یاس ہوتا ہے
سنا ہے میں نے غیروں کی وہ محفل میں بھی جاتا ہے
کہیں مجھ سے نہ چھن جائے یہی وسواس ہوتا ہے

0
26
ملنے کا اس نے مجھ سے جو وعدہ نہیں کیا
میں نے بھی بار بار تقاضا نہیں کیا
جب سے گیا ہے وہ مجھے بے آس چھوڑ کر
جینے کا تب سے میں نے ارادہ نہیں کیا
مانگی نہیں ہے بھیک کسی کم نگاہ سے
کشکول توڑ ڈالا کشادہ نہیں کیا

42
اکیلے میں تم جو گا رہے ہو
یہ گیت کس کو سنا رہے ہو
یہ بھیگی آنکھیں یہ زرد چہرہ
ارے کیوں مجھ سے چھپا رہے ہو
تمھیں تو خوشیوں سے ہی شغف تھا
یہ اشک اب کیوں بہا رہے ہو

0
34
خواب آنکھوں سے نکالے نہیں جاتے
درد اب ہم سے سنبھالے نہیں جاتے
بڑھے ہیں غیر سے جب ان کے مراسم
مجھ کو تو اب جاں کے لالے نہیں جاتے
وہ اگر میرا ہے تو پھر کہے مجھ سے
ورنہ ایسے مرے نالے نہیں جاتے

18
غم دیدہ فضاؤں سے لپٹ کر رویا
پھولوں کی قباؤں سے لپٹ کر رویا
جس در سے ملا مجھے رونے کا ہنر
اس در کی ہواؤں سے لپٹ کر رویا
پھر بعد ترے جب کبھی ساون برسا
گھنگھور گھٹاؤں سے لپٹ کر رویا

2
47
دل سے جو نکلی ہے صدا سن لو
داستانِ غمِ وفا سن لو
تہمتِ عشق جب لگی گل پر
خار سے غنچوں نے کہا سن لو
سنتے ہو بے کسوں کی یا مالک
ہم اسیروں کی بھی دعا سن لو

32
پھر شب کے تارے سو چکے ہیں
سارے کے سارے سو چکے ہیں
اب تو ہر سو زمامِ شب ہے
دن کے نظارے سو چکے ہیں
آتش رخسار سے لو برسی
دل کے نقارے سو چکے ہیں

0
33
آرزوِ سحر میں رات بتائی میں نے
شمع کئی بار جلا کے بجھائی میں نے
جب بھی خیالِ رقیباں نے کیا بے کل مجھے
دشتِ تخیل کو آواز لگائی میں نے
لوٹی پریشاں سی میری صدا کی بازگشت
اپنی کہانی یو ں خود کو ہی سنائی میں نے

39
وہ یاد آیا بے وفا دل رو پڑا
آنسو بہے بن کے گھٹا دل رو پڑا
رب سے اسے مانگا دعا میں ہر گھڑی
دل سے ہے نکلی جب دعا دل رو پڑا
بے چین جیون ہے مرا اب کیا کروں
جب سے ہوئے زخمی جدا دل رو پڑا

0
59
چھوڑیں رہنے دیں تلخیِ حیات پی لیجیے
پھر کبھی میسر ہی نہ ہو یہ رات پی لیجیے
بٹ رہی ہے دستِ ساقی سے بادہِ نایاب
بھول جائیں گے سارے واقعات پی لیجیے
صبحِ دم سے لے کر تم سَرِ شام پھرتے ہو
تن چکی ہے اب سر پر سرد رات پی لیجیے

0
28
ہم درد کے مارے ہیں دن رات سسکتے ہیں
ہم روتے نہیں لیکن جذبات سسکتے ہیں
اک شہرِ خموشاں کے ویران کنارے پر
ہم کنج نشینوں کے مزارات سسکتے ہیں
ہم لوگ نرالے ہیں خاموش ہمارے دکھ
ہم خود تو نہیں کہتے یہ نغمات سسکتے ہیں

0
54
پکڑ کر ہاتھ میرا تو مجھے اتنا بتا دینا
کبھی جو ہم نہ مل پائیں بتادو پھر کرو گے کیا
مجھے بھی روک سکتا ہے زمانہ پاس آنے سے
تمھیں بھی لوگ روکیں گے بتا دو پھر رکو گے کیا
محبت نے ستایا ہے ہمیشہ خوب بڑھ چڑھ کر
یہ بازی جاں کی بازی ہے بتا دو پھر ہرو گے کیا

0
39
جو جام ساقی تیری محفل میں چل رہے ہیں
یوں نشہ ہم میں اور ہم نشے میں ڈھل رہے ہیں
پی پی کے ہو چکے ہیں مخمور کافی حد تک
دل میں چھپے تھے کب سے ارماں نکل رہے ہیں
تھامو خدارا ہم کو اے رندو ہوش والو
ہم پہلے لڑ کھڑائے اب تو پھسل رہے ہیں

2
60
ہم خونِ جگر بہا کے روئے
خط آخری بھی جلا کے روئے
قاصد نے خبر دی جب بھی آ کر
قاصد کو گلے لگا کے روئے
جب بھی کوئی ہم سے ملنے آیا
ہم اپنی کتھا سنا کے روئے

0
25
لوٹ آتے ہیں سبھی درد و غم شام کے بعد
ٹوٹ جاتے ہیں تبھی پھر سے ہم شام کے بعد
شام سے پہلے وہ رخصت ہوا مجھ سے کبھی
اب تو جیسے مرا گھٹتا ہے دم شام کے بعد
رتجگے جب سے مری آنکھوں میں آ بسے ہیں
رہتی ہے تب سے مری آنکھ نم شام کے بعد

39
ترا عشق تھا کوئی حرز جاں مرے جسم و جاں میں اتر گیا
کوئی موج تھی جو ٹھہر گئی کوئی طوفاں تھا جو گذر گیا
تھا وہ ذوق پھر یا خمار تھا یونہی سر پہ میرے سوار تھا
میں جو رتجگوں سے ملا نہ تھا ترے عشق سے ہی بکھر گیا
ترے ساتھ جینا محال تھا ترے بعد مرنا کمال تھا
تھی عجیب حالتِ زندگی کبھی جی اٹھا کبھی مر گیا

2
53
خواہشِ دل کو دبا رکھا ہے
غم کو سینے میں چھپا رکھا ہے
لاج رکھنا مری اے حافظِ کل
طوفاں میں لا کے دیا رکھا ہے
تم جسے کہتے تھے مونس ہجراں
اس نے غیروں سے نبھا رکھا ہے

34
زمانے اب وہ پرانے نہیں رہے
محبتوں کے ترانے نہیں رہے
کسے سنائیں گے اب داستان غم
کہ ملنے کے تو بہانے نہیں رہے
کدورتوں کو مٹا دے دلوں سے جو
محبتوں میں نشانے نہیں رہے

0
28
ہم محبت کا خسارا نہیں کرتے
وہ سنے ناں تو اشارا نہیں کرتے
روئیں گے سر کو سرہانے سے لگا کر
اب جو ملنا بھی گوارا نہیں کرتے
چھوڑ کر جائے تو پھر مت اسے روکو
جانے والوں کو پکارا نہیں کرتے

0
31
انا سے پہلو بچا کے چلنا
سبھی کو اپنا بنا کے چلنا
نہ تم کو ناکامی ڈھونڈھ پائے
نشان سارے مٹا کے چلنا
خراج مانگیں خزائیں تم سے
تو پھول شبنم لٹا کے چلنا

0
36
جب سے دل کا سپنا ٹوٹا
روئے دھوئے سینہ کوٹا
غم ہی غم ہیں ہر سو اب تو
سکھ کا آنگن ہم سے چھوٹا
نت وفا کی قسمیں دے کر
مجھ کو ہر دم تم نے لوٹا

0
43
غم کی فریاد بھی مہجور ہوا کرتی ہے
شب کے مارے ہوئے لوگوں سے ملا کرتی ہے
اس نے چھوڑا تو مرا چین بھی روٹھا مجھ سے
اب تو وحشت ہی مرے گھر میں رہا کرتی ہے
تم تو سنتے بھی نہیں ہو مرا افسانہ غم
ورنہ دکھ درد تو خلقت بھی سنا کرتی ہے

0
29
لمس خوشبو سے ہے ملا ابھی
تازہ پھول کوئی کھلا ابھی
میری تشنگی ہے عروج پر
بس تو جام نینن پلا ابھی
اب نہ چھیڑ ساقی تو ساز دل
میری پیاس ہی تو بجھا ابھی

0
32
کیا تھا دل تمھی نے جو شکستہ بھول بیٹھے ہو
بڑے ظالم ہو دلبر من خُجَستہ بھول بیٹھے ہو
دکھا منزل کا رستہ تم وفا کی بات کرتے تھے
بتا دو پھر بھلا کیسے وہ رستہ بھول بیٹھے ہو
ہوا تھا ساتھ جینے اور وعدہ ساتھ مرنے کا
لکھا تھا جن کتابوں میں وہ بستہ بھول بیٹھے ہو

0
79
درد بڑھ کر عیاں نہ ہو جائے
فیصلہ پھر یہاں نہ ہو جائے
وہ جو کہنے لگا ہے اپنا مجھے
مجھ سے پھر بدگماں نہ ہو جائے
سی لیے لب مگر نگاہوں سے
جو چھپایا بیاں نہ ہو جائے

0
45