| نینوں سے نیر بہے جاتے ہیں |
| تیرا دردِ جدائی سہے جاتے ہیں |
| انتطارِ یار میں میرا دم نکل رہا ہے |
| بار ہا زمانے سے کہے جاتے ہیں |
| نہ جانےکب ختم ہوگی شبِ ہجر |
| نہ جانے کب ملے جاتے ہیں |
| نینوں سے نیر بہے جاتے ہیں |
| تیرا دردِ جدائی سہے جاتے ہیں |
| انتطارِ یار میں میرا دم نکل رہا ہے |
| بار ہا زمانے سے کہے جاتے ہیں |
| نہ جانےکب ختم ہوگی شبِ ہجر |
| نہ جانے کب ملے جاتے ہیں |