Circle Image

Ahmad Naveed Qadri

@Naveed92

دورِ حاضر میں کوئی کرتا نہیں ہے اس زمین کو یاد
دہرِتماشا میں کوئی کرتا نہیں ہے اس مکین کو یاد
جس مکین نے کی ہے حفاظت میرے تیرے پرکھوں کی
خوفِ ظالم میں کوئی کرتا نہیں ہے اس زمین کو یاد

0
3
یہ جہاں مکافات کا جہاں ہے
بیٹے جو بوؤ گے وہی کاٹو گے
یہاں کوئی اپنا نہیں ہے
یہاں سب مطلب پرست ہیں
اس دنیا سے توقع کرنا
بیٹے سب سے بڑی بیوقوفی ہے

0
14
نینوں سے نیر بہے جاتے ہیں
تیرا دردِ جدائی سہے جاتے ہیں
انتطارِ یار میں میرا دم نکل رہا ہے
بار ہا زمانے سے کہے جاتے ہیں
نہ جانےکب ختم ہوگی شبِ ہجر
نہ جانے کب ملے جاتے ہیں

0
7
کوئی ساحل کوئی تو کنارہ بنے
کوئی درد مندوں کا بھی سہارا بنے
اس نے تو چھوڑ دیا بھری محفل میں
کوئی دھتکارے ہوؤں کابھی خدارا بنے
اس کو کہہ دیں گے ہم باادب ہو کر
کوئی کہے کہ اک بار تو ہمارا بنے

0
27