| کوئی ساحل کوئی تو کنارہ بنے |
| کوئی درد مندوں کا بھی سہارا بنے |
| اس نے تو چھوڑ دیا بھری محفل میں |
| کوئی دھتکارے ہوؤں کابھی خدارا بنے |
| اس کو کہہ دیں گے ہم باادب ہو کر |
| کوئی کہے کہ اک بار تو ہمارا بنے |
| اس کو علم تو ہوگا ہمارے عالم کا |
| کوئی توہو جواب کی بار اجارہ بنے |
| بہت ستایا ہے تیری یادوں نے مجھے |
| کوئی بتائے تیرا اور تیرا اشارہ بنے |
معلومات