Circle Image

عادل عبد الرزاق

@Adil.111

یہ بات بتاتے ہوئے اچھا نہیں لگتا
رستہ مرے دل سے ترے دل کا نہیں لگتا
کچھ جنگوں میں اس واسطے بھی میں نہیں جیتا
اپنوں کو ہرانا مجھے اچھا نہیں لگتا
خود سے بھی پرایا ہو گیا ہوں میں اے یارو
اب آئینے میں چہرہ بھی میرا نہیں لگتا

0
5
خود سے یوں بھی ہے آتش کو نکلتے دیکھا
اپنے بدن کو بارش میں ہے جلتے دیکھا
میں ٹوٹا ہوا تھا بکھرا ہوا تھا اس لمحے
جس لمحے تم نے تھا مجھ کو سنبھلتے دیکھا
دیکھا میں نے دولت پہ بھی مرتے ہوئے لوگوں کو
میں نے غربت سے بھی لوگوں کو مرتے دیکھا

0
9
میں اب کسی سے باتیں نہیں کرتا ہوں
پر چپ رہ کے بھی کیا کیا کہہ جاتا ہوں
تو باپ کی اک خوش قسمت بیٹی ہے
میں اپنی ماں کا بدقسمت بیٹا ہوں
اپنی اب تو یہ حالت ہو گئی ہے
وہ مسکرا دے گر تو میں رو پڑتا ہوں

0
18
کس سے پوچھیں اس کا رستہ کدھر لگتا ہے
شہر کا ہر بندہ ہی یہاں بے خبر لگتا ہے
اب تو جو دیکھوں کچھ نہیں دکھتا تیرے علاوہ
یہ تیری آنکھوں کے نشے کا اثر لگتا ہے
چہرے کو اپنے یوں سجا رکھا ہے میں نے
خوش تو نہیں ہوں کہیں سے بھی میں مگر لگتا ہے

0
32