تقطیع
اصلاح
اشاعت
منتخب
مضامین
بلاگ
رجسٹر
داخلہ
Sagar Haider Abbasi
@1987
شعری مجموعہ : 1- ماں، 2- میرے انمول دُکھ شاعر : ساگر حیدر عباسی (کراچی پاکستان)
7 جولائی 2026
برائے اصلاح
Sagar Haider Abbasi
@1987
تم سے رہائی پائیں بھی تو کیسے
جسم و جاں میں سمائے ہوئے ہو تم
رہائی
0
4
7 جولائی 2026
شعر
Sagar Haider Abbasi
@1987
انا بھی تو جدائی کا سبب بن جاتی ہے ساگر
انا کی لاج جو رکھتے ہیں داغ سہہ نہیں سکتے
داغ
0
7
7 جولائی 2026
نظم
Sagar Haider Abbasi
@1987
وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی تمہیں کس بات کا ڈر ہے
جدائی ہے محبت میں تو ملنا بھی مقدر ہے
محبت میں جدائی کی روایت توڑ دوں گی میں
تری خاطر یہ دنیا کی حقیقت چھوڑ دوں گی میں
محبت میں ترا ملنا مقدر میں لکھاؤں گی
میں نے چاہا ہے تمہیں اور ہمیشہ تمہیں چاہوں گی
نظم( فطرت )
0
17
7 جولائی 2026
نظم
Sagar Haider Abbasi
@1987
تم مجھے شاعر نہ سمجھو میری جاناں
میں کوئی لفظوں کا جادوگر نہیں ہوں
درد کا مارا ہوا وہ شخص ہوں میں
جس کو تم نے عشق میں دھوکا دیا تھا
میرے حصے میں فقط تنہائیاں تھیں
تیرے حصے میں تھیں ساری ہی دعائیں
تم مجھے شاعر نہ سمجھو میری جاناں
0
13
6 جولائی 2026
نظم
Sagar Haider Abbasi
@1987
میں زندگی کو کس کے غم میں مٹا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ہے کون سی کمی جو مجھ کو ستا رہی ہے
کس درد کی تپش میں خود کو جلا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ٹوٹا ہوا ہے دل بھی نم ہیں مری نگاہیں
اپنے مجموعۂ کلام "ماں" سے ایک پسندیدہ نظم
0
14
6 جولائی 2026
موزوں
Sagar Haider Abbasi
@1987
راز سے پردہ اٹھا بیٹھا ہوں
درد دل سب کو سنا بیٹھا ہوں
گل کھلانے کی تھی خواہش دل میں
پیڑ کانٹوں کے لگا بیٹھا ہوں
میں تجھے بھولنے کی کوشش میں
اپنا ہی درد بڑھا بیٹھا ہوں
غزل برائے اصلاح
0
11
3 جولائی 2026
غزل
Sagar Haider Abbasi
@1987
تم یوں ہر بات پر نہ روٹھا کرو
میں تمہیں گر منانا بھول گیا
یاد رہتا نہیں مجھے کبھی کچھ
میں ہی اپنا فسانہ بھول گیا
کس زمانے سے آیا ہے تو بتا
میں بھی اپنا زمانہ بھول گیا
"میرے انمول دکھ" سے انتخاب
1
10
3 جولائی 2026
نظم
Sagar Haider Abbasi
@1987
وقت تو خیر سے یہ گزر جائے گا
تیرا یہ غم مری جان کھا جائے گا
گِلے شکوے بھی ہیں تجھ سے، اے زندگی
جیتے جیتے مگر جینا آ جائے گا
کوئی تو لمحہ ہوگا کہ آخر کبھی
میرا بے چین دل بھی جزا پائے گا
"میرے انمول دکھ" سے انتخاب
0
12
3 جولائی 2026
غزل
Sagar Haider Abbasi
@1987
اب کہاں مجھ کو یہ گھر لگتا ہے
ماں کے بن غیر کا در لگتا ہے
قبر تک ساتھ چلے گا میرے
غم ترا دردِ جگر لگتا ہے
زندگی ماں کے بنا ایسی ہے
جیسے پت جھڑ میں شجر لگتا ہے
ساگر حیدر عباسی کی کتاب (ماں)سے ماخوذ
0
16
3 جولائی 2026
نا مکمل
Sagar Haider Abbasi
@1987
میں ہنستا ہوں محفل میں سب کے لیے
مرے دل میں اک آہِ شب گیر ہے
بھلا کوئی سمجھے نہ ساگر مجھے
مرا درد ہی میری تحریر ہے
مقطع
0
7
3 جولائی 2026
غزل
Sagar Haider Abbasi
@1987
ترے پیار میں وہ اثر ہی کہاں
ترے درد میں ایک تاثیر ہے
مرے دل کی ویران بستی میں اب
تری یاد ہی ایک تنویر ہے
جو بھی زخم تو نے دیے تھے مجھے
وہی میری ہستی کی تقدیر ہے
غزل
0
7
2 جولائی 2026
موزوں
Sagar Haider Abbasi
@1987
گھر کے آنگن میں لگا بیٹھا ہوں
پیڑ کانٹوں کا اُگا بیٹھا ہوں
درد ہی درد مرے دل میں ہے
عشق میں دھوکہ جو کھا بیٹھا ہوں
دل کے زخموں کو چھپا بیٹھا ہوں
خود ہی خود کو میں بھلا بیٹھا ہوں
غزل (ساگرحیدرعباسی)
0
11
13 دسمبر 2024
نثری نظم
Sagar Haider Abbasi
@1987
تُو تُو میں میں نہ کر زرا لحاظ رکھ
اگر بے ادب ہے تُو، تو بڑا بدلحاظ ہوں میں
تُو نے صرف سُنا ہو گا کہ زمانہ خراب ہے
ہوا ہے جس سے زمانہ خراب وہی خراب ہوں میں
وہی خراب ہوں میں
1
49
8 ستمبر 2024
برائے اصلاح
Sagar Haider Abbasi
@1987
جن سانپوں کے سر کچلنے ہوں اُن کو دودھ نہیں پلایا کرتے۔
Absolutely Not
0
49
9 نومبر 2023
موزوں
Sagar Haider Abbasi
@1987
جو عزت نہ کر پائے تو وہ یار نارسا
جو عزت تمہیں دے تو وہ دشمن بھی پارسا
مری یہ نصیحت تم کبھی بھولنا نہیں
نہ رکھنا کبھی کم ظرف سے کوئی واسطہ
ساگر حیدر عباسی
0
79
9 نومبر 2023
نثری نظم
Sagar Haider Abbasi
@1987
تُو تُو میں میں نہ کر زرا لحاظ رکھ
جو بد لحاظ ہے تو بے ادب ہوں میں
سنا ہو گا تو نے کہ زمانہ خراب ہے
ہوا جس سے زمانہ خراب وہی خراب ہوں میں
چند اشعار
1
92
15 ستمبر 2023
غزل
Sagar Haider Abbasi
@1987
کسی کی حسرتیں دل سے مٹا کر کچھ نہیں ملتا
کسی کا دل مری جاناں دکھا کر کچھ نہیں ملتا
جہاں آندھی کا چرچہ ہو جہاں بارش کی رم جھم ہو
وہاں پر مٹی کے یہ گھر بنا کر کچھ نہیں ملتا
یہاں پر ساتھ مطلب کے بنا کوئی نہیں دیتا
امیدیں بھی یہ لوگوں سے لگا کر کچھ نہیں ملتا
کسی کی حسرتیں دل سے مٹا کر کچھ نہیں ملتا
1
90
11 جولائی 2023
موزوں
Sagar Haider Abbasi
@1987
یاد کر لوں تجھے بھول پاتا نہیں
ذہن میں بیٹھ جائے تُو جاتا نہیں
یاد کرتا نہیں اس لیے میں تجھے
پھر سوا تیرے کچھ یاد آتا نہیں
ماں
1
78
18 نومبر 2022
نا مکمل
Sagar Haider Abbasi
@1987
کہنے کی ہو جو کرتے ہیں بات ساگر
سینے میں ہم رکھتے ہیں جذبات ساگر
شاعری سے میری یہ سیکھا ہے میں نے
واہ ہوتی ہے دردِ خیرات ساگر
واہ ہوتی ہے دردِ خیرات ساگر
0
79
18 نومبر 2022
نا مکمل
Sagar Haider Abbasi
@1987
تمہیں اپنا سب کچھ مان لیا تھا میں نے
بس اتنا سا ہی اک جرم کیا تھا میں نے
جرم
0
93
25 مئی 2022
رباعی
Sagar Haider Abbasi
@1987
نثروں سے مری غزل بناتے تھے جو
اب درس مجھے وہ اردو کا دیتے ہیں
اب درس مجھے وہ اردو کا دیتے ہیں
0
112
2 مئی 2022
موزوں
Sagar Haider Abbasi
@1987
دردِ دل میرا بڑھانے کے واسطے
حسرتیں دل کی مٹانے کے واسطے
درد سے دل کو جلانے کے واسطے
بے سبب مجھ کو رلانے کے واسطے
اب نہیں کچھ بھی چھپانے کے واسطے
لاج یہ اپنی بچانے کے واسطے
میری کتاب (عیدیں اب بھی آتی ہیں) سے کچھ اشعار عید کے نام
2
1
167
1 مئی 2022
شعر
Sagar Haider Abbasi
@1987
درد دل میں اس طرح سے رہتا ہے اب
جیسے کوئی بچہ ہو ماں کی گود میں
میری کتاب(ماں) سے ایک شعر
1
202
1 مئی 2022
نا مکمل
Sagar Haider Abbasi
@1987
مرحلے عشق کے ختم ہو بھی چکے
ہم ترے درد کا رونا رو بھی چکے
رات بھر تکتے رہتے ہو تم چاند کو
لوگ خواب اوڑھ کر کب کہ سو بھی چکے
جس کہ غم میں یہ مجنوں بنے پھرتے ہو
خیر سے وہ کسی اور کے ہو بھی چکے
میری کتاب (میرے انمول دُکھ) سے ایک غزل
1
163
7 اگست 2021
شعر
Sagar Haider Abbasi
@1987
تمہاری بھول ہے ساگر کہ اک دن لوٹ آئیں گے
بھلا آنکھوں سے بہہ کر بھی کبھی آنسو پلٹتے ہیں
Judai
2
1
138
معلومات