Circle Image

Sagar Haider Abbasi

@1987

Just Believe In Your Self Every thing is Possible..

مرا شکوہ بھی باوزن ہے صاحب
ترا ہونا نہ ہونا برابر ہے

6
زندگی جینا جہاں سے مشکل ہو جاتا ہے
زندگی وہیں سے شروع ہوتی ہے ۔۔۔

0
2
بہت نادان تھے ہم عشق سے پہلے
محبت تُو کیا ہے جانتے ہیں ہم

5
اپنے صدقے خود اُتارے ہیں میں نے
میں کسی کو جان سے پیارا نہیں

6
مل کر بچھڑنے کے موسم سے گزر رہا ہوں
میں اب بکھرنے کے موسم سے گزر رہا ہوں
ساگر حیدر عباسی

0
13
یہ جگنو یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
بھٹک نہ جاہیں ہم کہیں اندھیروں میں کھو کر

0
25
بزمِ سخن میں کچھ کنے سے پہلے
تو بحر سے لفظوں کو تربیت دے
پھر دردِ دل میں زہر گھول ساگر
پھر دردِ دل کو اپنے تربیت دے

0
1
24
پکاریں کس طرح تم کو اے ساحل کے تماشاہی
یہ لب خاموش ہیں اور تم صدا کی بات کرتے ہو
یہ ہر اک بات پے تم جو وفا کی بات کرتے ہو
فرشتہ ڈھونڈتے ہو تم خدا کی بات کرتے ہو

14
قفس سے ریہا ہوں جو وہ پرندے کب پلٹتے ہیں
محبت میں جدائی کے یہ موسم کب بدلتے ہیں
زرا دیکھیں تو عزرائیل میرے کھوکھلے تن سے
مری جاں لے کہ مٹھی میں یہاں سے کب نکلتے ہیں

13
1۔زندگی ایک خواب ہے جس کی آنکھ قبر میں کھلے گی۔
2۔جھوٹ انسان کہ ارادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے دیمک زدہ لکڑی کی طرح۔
3۔کچھ رشتے دل کی دھڑکن کی طرح ہوتے ہیں جنھیں ہم محسوس تو کر سکتے ہیں مگر چھو نہیں سکتے۔
4۔کسی کا عیب دیکھو تو اس کی اصلاح کرو غیبت سے بچنے کا بہترین اصول یعی ہے۔
5۔جس میں سیکنھے کی لگن ہو اُسے قابل بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
6۔ہر بدزبان اور بدلحاظ انسان کا بہترین علاج خاموشی ہے۔

0
18
دل جو داغ دار ہے
تو وہ داغ ہو بھی تم

14
درد دل میں اس طرح سے رہتا ہے اب
جیسے کوئی بچہ ہو ماں کی گود میں
از ساگر حیدر عباسی

0
15
یہ جو ڈوبا ہوا ہوں میں ازل سے اندھیروں میں
شاید تری یادوں کا گرہن لگ چکا ہے

13
درد دل کی دوا ہو گیا
تو جو مجھ سے خفا ہو گیا
جینا دشوار تھا پہلے بھی
جینا اب یہ سزا ہو گیا
دوں کیا اب کسی کو صدا
میں تو خود سے جدا ہو گیا

17
یہ مرا درد بے مثال ہے مجھ میں
یہ مری خوبی ہے کمال ہے مجھ میں

0
37
یہ مرا ظرف ہے تُو سن اے بیوفا
مرا دل ہی مرا زوال ہے مجھ میں
ترے غم روح میں رقم ہو رہے ہیں
بس اسی بات کا ملال ہے مجھ میں
میں تری یاد میں بے چین ہوں ساگر
تری ہی ذات کا خیال ہے مجھ میں

18
کوئی جب پوچھ لیتا ہے تمہارا حال کیسا ہے
میں گر خاموش رہ جاؤں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں
ہزاروں دل کو میرے دل کی چاہت ہے مگر ساگر
ترے انداز یاد آہیں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں

12
سنو جس طرف بھی جاؤ گے پاؤ گے ہمیں
ہواؤں میں بکھرے ہیں ہم خوشبو کی طرح

13
ترے انتظار میں دن ڈھلے، مرا درد اور نکھر گیا
ترے راستے میں کھڑے کھڑے مرا سال یہ بھی گزر گیا

0
12
گھول کے اشک ترے غم کے پیئے ہیں برسوں
ہم تری یاد میں مر مر کے جیئے ہیں برسوں

8
تمہاری بھول ہے ساگر کہ اک دن لوٹ آئیں گے
بھلا آنکھوں سے بہہ کر بھی کبھی آنسو پلٹتے ہیں​

20
بکھرے ہوئے پھولوں کا شاخوں سے کیا مطلب
اجڑی ہوئی کلیوں کو گلزار سے کیا لینا
ہم نے تو گزاری ہے زندگی نفرت میں اپنی
ہم جیسے بنجاروں کو پیار سے کیا لینا
ہمیں ہے لاحق تیرے ہی عشق کی بیماری
تجھے میری طبیعت میرے بخار سے کیا لینا

1
22