Circle Image

Sagar Haider Abbasi

@1987

شعری مجموعہ : 1- ماں، 2- میرے انمول دُکھ شاعر : ساگر حیدر عباسی (کراچی پاکستان)

زمانے کے سبھی عاشق تجھے طعنے سے ماریں گے
دسمبر آ گلے لگ جا تجھے اب ہم گزاریں گے
بچھڑ مجھ سے گئے ہیں جو تری ان سرد راتوں میں
انھیں تنہا تلاشیں گے کہ آنکھوں کو بگھو کر ہم
انھیں دل سے اتاریں گے ترے دکھ سکھ نبھائیں گے
سنور سکے نہ خود لیکن تجھے ہم یوں سنواریں گے

0
8
زمانے کے سبھی عاشق تجھے طعنے سے ماریں گے
دسمبر آ گلے لگ جا تجھے اب ہم گزاریں گے
بچھڑ مجھ سے گئے ہیں جو تری ان سرد راتوں میں
انھیں تنہا تلاشیں گے کہ آنکھوں کو بگھو کر ہم
انھیں دل سے اتاریں گے دسمبر آ گلے لگ جا
تجھے اب ہم گزاریں گے ترے دکھ سکھ نبھائیں گے

0
3
میں جدا تجھ سے ہو تو گیا ہوں مگر
اس جدائی کا رونا ابھی باقی ہے
تو نے تو کھو دیا جان میری مجھے
میرا بھی تجھ کو کھونا ابھی باقی ہے
تو نے بھولا دیا ہے مری جاں مگر
میرا تجھ کو بھلانا ابھی باقی ہے

6
ہیں محبت میں فنکاریاں کیا کیا
دیکھی میں نے اداکاریاں کیا کیا
کرتے ہیں باتیں جو عشق میں مرنے کی
کرتے ہیں وہ دل آزاریاں کیا کیا

0
6
زمانے کی محبت میں رہو تم مبتلا لیکن
محبت میں کوئی لمحہ محال آئے تو لوٹ آنا
ابھی میں اوڑھے پھرتا ہوں تمہارے کرب کی چادر
تمہارے کاندھوں پر بھی غم کی شال آئے تو لوٹ آنا

0
4
آنکھیں بھی برسیں دل بھی تڑپا
ہم نے تجھ کو پکارا ساگر
ہو کے برباد عشق میں بھی
ہم نے خود کو سنوارا ساگر
میرا گھر کیسے جلا تھا وہ
میں نے خود یہ تماشہ دیکھا

0
13
ہاتھ دشمن سے کیوں تو نے ملا لیا
اپنے ہاتھوں سے اپنا خرابہ کیا
میرے ہونے کا تجھ کو یقیں کیوں نہ تھا
میری خاطر تو نے بھی بہت کچھ کیا
وقت واپس نہیں آتا ہے پھر کبھی
میرے مرنے سے پہلے مجھے سچ بتا

0
10
خوش رہو وہ مجھے یہ دعا دے گیا
وہ بچھڑ کے مجھے یہ سزا دے گیا
جانتا ہی کیا تھا مرے بارے میں
زخم پر زخم جو اک نیا دے گیا

16
یہ غم نہیں ہیں اثاثہ ہیں میرے دل کا
یہ شعر نہیں خلاصہ ہیں میرے دل کا
از ساگر حیدر عباسی

5
اتنی طاقت یہ میرے قلم میں نہیں
جو بیاں ظرف یہ بنت حوا کرے
جو ہے گزری اذیت وہ ساری لکھے
جو سہے ہیں بیاں وہ ستم بھی کرے
اتنی طاقت یہ میرے قلم میں نہیں
جو بیاں ظرف یہ بنت حوا کرے

0
7
جب دکھے گا ترا دل بڑھے گا یہ غم
تیرا جھک جائے گا سر رکیں گے قدم
جب زمانے کے تو یہ سہے گا ستم
یاد آئیں گے تجھ کو کیے وہ کرم
جب کرے گا زمانہ فریبِ وفا
چھینے گا درد تیرے لبوں سے صدا

5
ہر زخم زمانے کا ہے منسوب کسی سے
ہر شخص کو ہر بات میں لایا نہیں جاتا
میں دھوپ میں ہوں یا چھاوں میں ہوں کہیں ساگر
سر سے یہ تری یاد کا سایہ نہیں جاتا

0
24
دردِ دل میرا بڑھانے کے واسطے
حسرتیں دل کی مٹانے کے واسطے
درد سے دل کو جلانے کے واسطے
بے سبب مجھ کو رلانے کے واسطے
اب نہیں کچھ بھی چھپانے کے واسطے
لاج یہ اپنی بچانے کے واسطے

1
30
عید لوٹی نہ بچپن کہ جیسی مرے
رسم کی طرح مناتے ہیں اب اسے

16
درد دل میں اس طرح سے رہتا ہے اب
جیسے کوئی بچہ ہو ماں کی گود میں

16
مرحلے عشق کے ختم ہو بھی چکے
ہم ترے درد کا رونا رو بھی چکے
رات بھر تکتے رہتے ہو تم چاند کو
لوگ خواب اوڑھ کر کب کہ سو بھی چکے
جس کہ غم میں یہ مجنوں بنے پھرتے ہو
خیر سے وہ کسی اور کے ہو بھی چکے

7
ماں کا سایہ تو رحمت ہے
ماں ہے تو گھر میں برکت ہے
ہے جس کے سر ماں کا سایہ
یہ ان کے سر پہ نعمت ہے
دعاہیں دی ماں نے جس کو
ملی اس کو تو راحت ہے

15
تمہاری بھول ہے ساگر کہ اک دن لوٹ آئیں گے
بھلا آنکھوں سے بہہ کر بھی کبھی آنسو پلٹتے ہیں​

1
36