Circle Image

Sagar Haider Abbasi

@1987

شعری و ادبی مجموعے: 1۔ ماں 2۔ میرے انمول دُکھ 3۔ بنتِ حوا 4۔ اقوالِ ساگر شاعر و مصنف: ساگر حیدر عباسی (کراچی، پاکستان)

اے قرار کیوں ہے تو گمشدہ
میری زندگی کی کتاب سے
دے سکوں کا لمحہ کوئی مجھے
یہ عذاب تو سر سے ٹال دے
میری وحشتوں کو نہ یوں بڑھا
اب مجھے تو اتنا بھی مت ستا

0
1
زندگی تجھ سے بدگماں ہو گئے ہیں
ہم جلے اتنے کے زیاں ہو گئے ہیں
لوگ جو میری زندگی تھے کبھی وہ
اب کہیں اور ان کے مکاں ہو گئے ہیں
کچھ ہمیں حاصل اب نہ ہو گا دوا سے
زخمِ پوشیدہ سب عیاں ہو گئے ہیں

0
قبر میں آنکھ کس منہ سے کھولو گے تم
پاس جب کوئی حُسنِ عمل بھی نہیں

0
کہنے کی جو ہو کرتے ہیں بات، وصی
سینے میں ہم رکھتے ہیں جذبات، وصی
شاعری سے تیری یہ سیکھا ہے میں نے
واہ! لگتی ہے درد کی خیرات، وصی

0
کسی کی حسرتیں دل سے مٹا کر کچھ نہیں ملتا
کسی کا دل مری جاناں دُکھا کر کچھ نہیں ملتا
جہاں آندھی کا چرچا ہو جہاں بارش کی رم جھم ہو
وہاں ریتوں کے یہ گھر پھر بنا کر کچھ نہیں ملتا
یہاں پر ساتھ مطلب کے بنا کوئی نہیں دیتا
امیدیں بھی یہ لوگوں سے لگا کر کچھ نہیں ملتا

0
2
1. وقت بُرا ہو تو وہ لوگ بھی آپ کی حیثیت پر اُنگلی اٹھانے لگتے ہیں جن کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
2. درد کی کوئی تصویر نہیں ہوتی، اسی لیے کوئی دوسرا اس کی شدت کو پوری طرح محسوس نہیں کر سکتا۔
3. لفظوں کی تاثیر احساس، خلوصِ جذبات اور درد کی سچائی سے جنم لیتی ہے۔
4. جس کام میں سیکھ یا تجربہ شامل نہ ہو، اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔
5. ہمیشہ وہی صلاح دو جس کا تجربہ تم خود حاصل کر چکے ہو۔
6. زندگی میں کوئی بھی عمل کرتے وقت یہ یاد رکھو کہ نیکی کی جزا اور بدی کی سزا اٹل ہے۔

0
1۔ زندگی ایک ایسا خواب ہے، جس کی آنکھ قبر میں جا کر کھلتی ہے۔
2۔ جھوٹ انسان کے ارادوں کو دیمک زدہ لکڑی کی طرح اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔
3۔ کچھ رشتے دل کی دھڑکن کی مانند ہوتے ہیں؛ انہیں محسوس تو کیا جا سکتا ہے، مگر چھوا نہیں جا سکتا۔
4۔ جب کسی کا عیب نظر آئے تو اس کی اصلاح کی کوشش کرو، کیونکہ غیبت سے بچنے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔
5۔ جس کے دل میں سیکھنے کی لگن زندہ ہو، اسے قابل بننے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔
6۔ بدزبان اور بدلحاظ انسان کا سب سے مؤثر جواب خاموشی ہے۔

0
2
دیمک کی طرح غم بھی یہ چپکے سے پل گیا
ہنستا ہوا وجود تھا اندر سے گل گیا
یادوں کا اک ہجوم تھا سینے میں عمر بھر
اک نام کیا لیا کہ مرا دل مچل گیا
آنکھوں میں اک چراغ بڑی دیر تک رہا
پھر شام جب ہوئی وہ اندھیروں میں جل گیا

0
3
دیمک کی طرح غم بھی یہ چپکے سے پل گیا
ہنستا ہوا وجود تھا اندر سے گل گیا
یادوں کا اک ہجوم تھا سینے میں عمر بھر
اک نام کیا لیا کہ مرا دل مچل گیا
آنکھوں میں اک چراغ بڑی دیر تک رہا
پھر شام جب ہوئی وہ اندھیروں میں جل گیا

0
2
تم مجھے گر نبھا لیتے تو اچھا تھا
درد وغم سے بچا لیتے تو اچھا تھا
ٹکڑوں میں بٹ گیا ہوں جدا ہو کہ میں
تم جو اپنا بنا لیتے تو اچھا تھا
آنسو جو ضبط کے دل پہ گرتے رہے
آنکھ سے ہی بہا لیتے تو اچھا تھا

0
9
سنو جاناں مجھے یوں چھوڑ کے تنہا نہ جانا تم
سبھی قسمیں سبھی رسمیں محبت کی نبھانا تم
تمہارے بن یہ دنیا تو مجھے بے نور لگتی ہے
تمہارے بن خوشی بھی یہ خودی سے دور لگتی ہے
تمہارے بن مری سانسیں مرے سینے میں گھٹتی ہیں
تمہارے بن یہ میری دھڑکنیں دل کی مچلتی ہیں

0
9
زمانے کے سبھی عاشق تجھے طعنوں سے ماریں گے
دسمبر آ گلے لگ جا ترے دن ہم گزاریں گے
تری ہر سرد آہٹ پر کسی کی یاد جاگے گی
مگر ٹوٹے ہوئے دل کو محبت سے سنبھالیں گے
بہت روکے گی یہ دنیا ہمیں ماضی کی گلیوں سے
مگر ہم تیرے دامن میں وہ لمحے ڈھونڈ لائیں گے

0
10
تم سے رہائی پائیں بھی تو کیسے
جسم و جاں میں سمائے ہوئے ہو تم

0
4
انا بھی تو جدائی کا سبب بن جاتی ہے ساگر
انا کی لاج جو رکھتے ہیں داغ سہہ نہیں سکتے

0
7
وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی تمہیں کس بات کا ڈر ہے
جدائی ہے محبت میں تو ملنا بھی مقدر ہے
محبت میں جدائی کی روایت توڑ دوں گی میں
تری خاطر یہ دنیا کی حقیقت چھوڑ دوں گی میں
محبت میں ترا ملنا مقدر میں لکھاؤں گی
میں نے چاہا ہے تمہیں اور ہمیشہ تمہیں چاہوں گی

0
27
تم مجھے شاعر نہ سمجھو میری جاناں
میں کوئی لفظوں کا جادوگر نہیں ہوں
درد کا مارا ہوا وہ شخص ہوں میں
جس کو تم نے عشق میں دھوکا دیا تھا
میرے حصے میں فقط تنہائیاں تھیں
تیرے حصے میں تھیں ساری ہی دعائیں

0
13
میں زندگی کو کس کے غم میں مٹا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ہے کون سی کمی جو مجھ کو ستا رہی ہے
کس درد کی تپش میں خود کو جلا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ٹوٹا ہوا ہے دل بھی نم ہیں مری نگاہیں

0
15
راز سے پردہ اٹھا بیٹھا ہوں
درد دل سب کو سنا بیٹھا ہوں
گل کھلانے کی تھی خواہش دل میں
پیڑ کانٹوں کے لگا بیٹھا ہوں
میں تجھے بھولنے کی کوشش میں
اپنا ہی درد بڑھا بیٹھا ہوں

0
12
تم یوں ہر بات پر نہ روٹھا کرو
میں تمہیں گر منانا بھول گیا
یاد رہتا نہیں مجھے کبھی کچھ
میں ہی اپنا فسانہ بھول گیا
کس زمانے سے آیا ہے تو بتا
میں بھی اپنا زمانہ بھول گیا

10
وقت تو خیر سے یہ گزر جائے گا
تیرا یہ غم مری جان کھا جائے گا
گِلے شکوے بھی ہیں تجھ سے، اے زندگی
جیتے جیتے مگر جینا آ جائے گا
کوئی تو لمحہ ہوگا کہ آخر کبھی
میرا بے چین دل بھی جزا پائے گا

0
12
اب کہاں مجھ کو یہ گھر لگتا ہے
ماں کے بن غیر کا در لگتا ہے
قبر تک ساتھ چلے گا میرے
غم ترا دردِ جگر لگتا ہے
زندگی ماں کے بنا ایسی ہے
جیسے پت جھڑ میں شجر لگتا ہے

0
16
ترے پیار میں وہ اثر ہی کہاں
ترے درد میں ایک تاثیر ہے
مرے دل کی ویران بستی میں اب
تری یاد ہی ایک تنویر ہے
جو بھی زخم تو نے دیے تھے مجھے
وہی میری ہستی کی تقدیر ہے

0
7
گھر کے آنگن میں لگا بیٹھا ہوں
پیڑ کانٹوں کا اُگا بیٹھا ہوں
درد ہی درد مرے دل میں ہے
عشق میں دھوکہ جو کھا بیٹھا ہوں
دل کے زخموں کو چھپا بیٹھا ہوں
خود ہی خود کو میں بھلا بیٹھا ہوں

0
11
تُو تُو میں میں نہ کر زرا لحاظ رکھ
اگر بے ادب ہے تُو، تو بڑا بدلحاظ ہوں میں
تُو نے صرف سُنا ہو گا کہ زمانہ خراب ہے
ہوا ہے جس سے زمانہ خراب وہی خراب ہوں میں

49
جن سانپوں کے سر کچلنے ہوں اُن کو دودھ نہیں پلایا کرتے۔

0
49
جو عزت نہ کر پائے تو وہ یار نارسا
جو عزت تمہیں دے تو وہ دشمن بھی پارسا
مری یہ نصیحت تم کبھی بھولنا نہیں
نہ رکھنا کبھی کم ظرف سے کوئی واسطہ

0
79
تُو تُو میں میں نہ کر زرا لحاظ رکھ
جو بد لحاظ ہے تو بے ادب ہوں میں
سنا ہو گا تو نے کہ زمانہ خراب ہے
ہوا جس سے زمانہ خراب وہی خراب ہوں میں

92
تمہیں اپنا سب کچھ مان لیا تھا میں نے
بس اتنا سا ہی اک جرم کیا تھا میں نے

0
93
نثروں سے مری غزل بناتے تھے جو
اب درس مجھے وہ اردو کا دیتے ہیں

0
112
دردِ دل میرا بڑھانے کے واسطے
حسرتیں دل کی مٹانے کے واسطے
درد سے دل کو جلانے کے واسطے
بے سبب مجھ کو رلانے کے واسطے
اب نہیں کچھ بھی چھپانے کے واسطے
لاج یہ اپنی بچانے کے واسطے

1
167
درد دل میں اس طرح سے رہتا ہے اب
جیسے کوئی بچہ ہو ماں کی گود میں

202
مرحلے عشق کے ختم ہو بھی چکے
ہم ترے درد کا رونا رو بھی چکے
رات بھر تکتے رہتے ہو تم چاند کو
لوگ خواب اوڑھ کر کب کہ سو بھی چکے
جس کہ غم میں یہ مجنوں بنے پھرتے ہو
خیر سے وہ کسی اور کے ہو بھی چکے

163
تمہاری بھول ہے ساگر کہ اک دن لوٹ آئیں گے
بھلا آنکھوں سے بہہ کر بھی کبھی آنسو پلٹتے ہیں​

1
138