میں انھیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
چل نکلتے جو مے پیے ہوتے
قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہو
کاشکے تم مرے لیے ہوتے
میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
دل بھی یا رب کئی دیے ہوتے
آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔ
کوئی دن اور بھی جیے ہوتے
بحر
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف
فاعِلاتن مفاعِلن فَعِلن
خفیف مسدس مخبون محذوف
فَعِلاتن مفاعِلن فَعِلن

0
20

اشعار کی تقطیع

تقطیع دکھائیں