| کَربلا کی سَر زمیں پے خُون کِس کا بَہہ چلا |
| یہ شَبیہِ مصطفٰیؐ ہیں خُون مُجھ سے کَہہ چلا |
| جتنے بھی آلام تھے وہ سب خُدا کے نام پے |
| ایک اِبنِ مُرتضٰیؑ، عشقِ خُدا میں سَہہ چلا |
| جَب سُنا میں نے کہ پیاسے اَہلِ کوثر چل بسے |
| آنسوؤں کا ایک دریا فَرطِ غم میں بَہہ چلا |
| ہے خلافت اور امامت مَنصَبِ اہلِ صَفا |
| گَر ہوں غاصِب تخت پر تو نامِ مَنصَب رَہ چلا |
| ظُلم کے ایوانوں کی اَوقات اِتنی ہے فَقَط |
| ایک نَعرہ حَیدریؑ سے قَصرِ ظالم ڈَھہ چلا |
معلومات