کَربلا کی سَر زمیں پے خُون کِس کا بَہہ چلا
یہ شَبیہِ مصطفٰیؐ ہیں خُون مُجھ سے کَہہ چلا
جتنے بھی آلام تھے وہ سب خُدا کے نام پے
ایک اِبنِ مُرتضٰیؑ، عشقِ خُدا میں سَہہ چلا
جَب سُنا میں نے کہ پیاسے اَہلِ کوثر چل بسے
آنسوؤں کا ایک دریا فَرطِ غم میں بَہہ چلا
ہے خلافت اور امامت مَنصَبِ اہلِ صَفا
گَر ہوں غاصِب تخت پر تو نامِ مَنصَب رَہ چلا
ظُلم کے ایوانوں کی اَوقات اِتنی ہے فَقَط
ایک نَعرہ حَیدریؑ سے قَصرِ ظالم ڈَھہ چلا

0
2
13
ماشا اللہ بہت خوب!

آپ کی محبتوں کا بہت شکریہ

0