مدینے کی جو یاد آئی تو چہرے پر نکھار آیا
رسولِ مجتبیٰ کے ذکر سے دل کو قرار آیا
مرے لب پر درودِ پاک کی جس دم سجی شبنم
کرم میرے خدا کا میری جانب بار بار آیا
تصور میں مدینے کے گلی کوچوں کو جب دیکھا
مری بے چین آنکھوں کو قرارِ جاں نثار آیا
نبی کی یاد سے روشن ہوئی میری شبِ ہجراں
غمِ تنہائی میں جیسے کوئی تو رازدار آیا
نبی ﷺ کی سنتوں پر جو گزارے زندگی اپنی
محمد کے وفاداروں میں پھر اس کا شمار آیا
عتیقؔ اب اور کیا مانگے درِ خیر الوریٰ ﷺ سے تو
نبی کی نعت لکھنے کا جو تجھ پر ہے خمار آیا

0
8