کیسے رخصت ہوۓ تھے بے التفاتی سے
یادوں میں پھر بھی ہے بسے، جو ہوئے
نہ جانے کون سی خطا ہوئی تھی
کتنے ناراض ہو گئے، پر چلتے
عادت مجبور کر رہی تھی ورنہ
اتنے بھی ہم نہ بے تکلف ہوتے
خاموشی کی حدیں پھلانگ دیں جب
تو اثباتی میں سر ہلا ہی رکھ دے
نا ممکن کوئی بات دنیا میں ہے
یہ ہرگز بھی نہیں کبھی حق مانے
اپنے بس میں سعی ہی کرنا ہوتا
باقی کا کام تو خدا جانے ہے
کر ناصر راہ گیر سے دریافت
کتنے دن کے قیام سے لوٹوگے

0
2
67
غزل میں ردیف نہ بھی ہو تو قافیہ کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

گراں قدر مشورے پر مشکور ہوں-