مجھے بھی وہ سَگِ دَرْبَاں بنا لیتے تو اچھا تھا
نکمے کو وہ قدموں میں جگہ دیتے تو اچھا تھا
گناہوں کا اٹھائے پھر رہا ہوں بوجھ میں سر پر
مرے سر سے یہ بوجھ آخر ہٹا دیتے تو اچھا تھا
میں ٹھوکر کھا کے گرتا ہوں سنبھلنا بھی نہیں آتا
وہ اپنے دست رحمت سے اٹھا دیتے تو اچھا تھا
میں اپنے عیب گنتا ہوں تو آنکھیں جھک ہی جاتی ہیں
مرے عیبوں پہ وہ پردہ گرا دیتے تو اچھا تھا
یہ دل دنیا کی چاہت میں بہت برباد ہو بیٹھا
دکھا کر اک جھلک اپنا بنا لیتے تو اچھا تھا
نہیں قابل نہیں عتیق تو ان کی غلامی کے
غلاموں کی غلامی میں بٹھا دیتے تو اچھا تھا

0
4