مُیسر مجھے خُوش جمالی ہوئی ہے
مِری آنکھ اُنؐ کی سوالی ہوئی ہے
وہ روضے کا گُنبد، وہ روضے کی جالی
یہ تصویر دل نے سنبھالی ہوئی ہے
یہ احساسِ قُربت، یہ اندازِ اُلفت
مِری حاضری بے مثالی ہوئی ہے
رہا بیچ بس ایک جالی کا پردہ
مجھے دید اُنؐ کی نرالی ہوئی ہے
مِری رُوح نے اُنؐ کے قدموں کو چوما
یہ رُوح اِس لئے تو وِصالی ہوئی ہے
تَصرّف ہے جاری یہ رُوحِ نبیؐ کا
کہ نسبت ہماری بلالیؓ ہوئی ہے
ہمیں دید بخشیں یہاں بھی وہاں بھی
یہ عرضی غُلاموں نے ڈالی ہوئی ہے

2
45
انشا اللہ ایک دن

آمین

0