غزل
فرعون ہیں، نازی ہیں، کہ تاتار صہیونی
ابلیس کے پیرو ہیں، یہ بیمار صہیونی
مصلوب کیا حضرتِ عیسی کو جو ناحق
ظلمت کے علم دار یہ مکار صہیونی
لبنان و فلسطین کو مقتل سے بدل کر
مظلوم بنے پھرتے ہیں عیار صہیونی
غزّہ میں ستم نسل کشی جاری ابھی بھی
بچوں کو کریں قتل سیہ کار صہیونی
منسوب نہیں خیر کہیں ایک اگرچہ
قرآن میں مذکور ہیں صد بار صہیونی
تاریخ کے ابواب سے ماخوذ ہے یہ سچ
مکار ہیں، سفاک ہیں، مردار صہیونی
خَلقَت کا لہو چوس رہے ہیں یہ ستمگر
قابض ہیں معیشت پہ سَہُو کار صہیونی
ہر خطہ ارضی کو شہاب اِن سے ہے خطرہ
ہر فتنے کے موجد ہیں غلط کار صہیونی
شہاب احمد
۱۱ مئی ۲۰۲۶

0
3