قافلہ آ گیا سحابوں کا
آنکھ میں سلسلہ ہے خوابوں کا
صحبتِ یار جب ہوئی برہم
چھڑ گیا ذکر پھر شرابوں کا
جنگ مذہب کی تھی نجانے کیوں
مسئلہ اٹھ گیا حجابوں کا
شیخ صاحب چلے ہیں میخانہ
ذکر چھیڑیں گے وہ عزابوں کا
لوگ گن کر نماز پڑھتے ہیں
یہ تو رشتہ ہوا حسابوں کا
وہ تغیر وبا نے پھیلایا
در کھلا آج انقلابوں کا
کیسے کیسے عذاب جھیلے ہیں
دھوکہ سارا ہی تھا نقابوں کا
میں نے کانٹوں سے دوستی کر لی
شوق مجھ کو تھا بس گلابوں کا

0
1
15
شیخ صاحب چلے ہیں میخانے