تُو نہ ملتا تو سکوں دل کو کہاں ہونا تھا
گھر مرا تیرے بنا خالی مکاں ہونا تھا
مجھ کو اشرف جو بنایا مجھے معلوم نہ تھا
کہ جُھکا میرے لئے سارا جہاں ہونا تھا
تیرے احسانوں کا ممکن نہیں ہو پائے شمار
حق ادا شکر کا ہو وہم و گماں ہونا تھا
میں تو گر جاتا اگر تُو نہ سہارا دیتا
خاک میں مل کے تو بے نام و نشاں ہونا تھا
ہے تِرا نور کئے جس نے منوّر دل ہیں
تیرا چہرہ بھی کہیں پر تو عیاں ہونا تھا
ہم کہاں تُجھ سے چھپا پاتے محبّت اپنی
رازِ دل کیسے کوئی تُجھ سے نہاں ہونا تھا
اس جہاں میں بھی ہے تقدیر تری جلوہ گر
کچھ حساب اپنا وہاں کچھ تو یہاں ہونا تھا
طارق آ جاؤ رضا اس کی تمہاری مرضی
مطمئن نفس ہو گر پھر یہ بیاں ہونا تھا

3
19
شعرِ تنہاؔ میں کہاں حسنِ بیاں ہونا تھا
شکوۂ ظلمِ بتاں زیرِ زباں ہونا تھا

واہ تنہا صاحب! بہت خوب!

خیلی متشکرم محترم ڈاکٹر طارق انور باجوہ صاحب!

0