وہ کہاں ہے مجھے پتہ ہی نہیں
ایسے لگتا ہے وہ ملا ہی نہیں
جیسے دو اجنبی ملیں پل بھر
ایسے بچھڑے کہ اب گلہ ہی نہیں
وصل میں حادثے وہ گذرے ہیں
اب فراق کوئی حادثہ ہی نہیں
اک اہم بات اس سے کہنی تھی
اس میں سننے کا حوصلہ ہی نہیں
پاؤں اتنے جلے ہیں صحرا میں
پاؤں پر کوئی آبلہ ہی نہیں
کون سچ بات منہ پہ بولے گا
گھر میں میرے تو آئینہ ہی نہیں
میں وہاں ہوں جہاں سے اب شاہد
واپس آنے کا راستہ ہی نہیں

2
128
بہت خوب

پسند کرنے کا شکریہ

0