ظلم اور جبر کے اطراف کٹہرا ہوگا
حسن ظن ہے کہ نیا دور سنہرا ہوگا
بات خنجر کی طرح دل میں اتر جائے گی
بات کا زخم سمندر سے بھی گہرا ہوگا
وہ اگر چاہیں گے بدلیں یہ نظامے ہستی
‏ہر اک گام پہ ظلمات کا پہرا ہوگا
کس کو معلوم تھا سلطان جو اب آئے گا
پہلے سلطان ہی کی طرح وہ بہرا ہوگا
حق و انصاف کی قاتل ہے تمہاری بستی
کوئی عادل بھی تو بستی میں نہ ٹھہرا ہوگا
عادل ریاض کینیڈین

1
9
واہ
زبردست
زخم سمندر سے بھی کہرا ہو گا
کیا کہنا

0