| مجھے یہ لوگ خطا کار اچھے لگتے ہیں |
| مجھے ولی بھی گنہگار اچھے لگتے ہیں |
| اب دشمنوں پہ بھروسہ نہیں رہا مجھ کو |
| کہ دشمنوں میں روادار اچھے لگتے ہیں |
| ہر ایک کام یہاں فن ہے اس لیے مجھ کو |
| ہر ایک کام میں فنکار اچھے لگتے ہیں |
| ہر ایک چیز پہ سمجھوتا دوستی کے سوا |
| کہ دوست صرف وفادار اچھے لگتے ہیں |
| سکوت روح میں اتنا بڑھا کہ اب شاہد |
| کہ گھر کے اب در و دیوار اچھے لگتے ہیں |
معلومات