وہ جو عشق تھا وہ فتور تھا
میری خواہشوں کا قصور تھا
لاکھ پہرے تھے اس کی سوچ پر
کچھ تو سوچ کر وہ بھی دور تھا
وہ جو ذکر تھا میری بزم میں
وہ تمہارا میرے حضور تھا
مجھ کو مان تھا اپنے عشق پر
اس کو بھی حسن کا غرور تھا
جان کر ترے لارے سہہ گئے
اتنا تو ہمیں بھی شعور تھا
حزنِ عاشقی تیرا شکریہ
تیرے درد میں بھی سرور تھا
تھا فدا تمہارے ہی نام پر
مر گیا جو ساغر صبور تھا

1
96
جی ہاں عشق ایک فتور ہی ہے ۔کاش ہم بھی اس فتور کا شکار ہوتے ۔۔۔بہت عمدہ غزل