مفلسی سے گلہ نہیں ہے مگر
جو بھی ملتا ہے چھوٹ جاتا ہے
میرے اندر بہت اندھیرا ہے
کچھ نہ کچھ روز ٹوٹ جاتا ہے
شکل سے مسکرا کے جاتا ہوں
دل مگر جھوٹ موٹ جاتا ہے
میں نے کچھ بھی نہیں کہا ہوتا
وہ تو ویسے ہی روٹھ جاتا ہے
اس کا آنسو فریب کا آنسو
چین پھر بھی وہ لوٹ جاتا ہے

18