خود کو تلاش کیا ماضی کی تحریروں میں
یادوں کی گٹھڑی میں پرانی تصویروں میں
پرکھوں نے دی قربانی غلامی کا طوق اتاریں
پاؤں تو آج بھی جکڑے ہیں کالی زنجیروں میں
میرے درد کا درماں کون کرے گا افری
کیا رکھا ہے سیاسی باسی تقریروں میں
پردیسی کا دُکھ اک پردیسی جانے افری
ڈھونڈتے رہنا خود کو خوابوں کی تعبیروں میں

3
98
زبردست ۔ شاندار

0
شکریہ

0

0