تو حُسن کا محور ہے، تو حُسن کا پیمانہ
تو واسطے میرے ہے اک گوہرِ یک دانہ
مُسکانِ لبوں پر لا ، آنکھو کو نہ نیچے رکھ
صدقہ ترے ہونٹوں کا، نینوں کا ہو نذرانہ
تم شمعِ فروزاں ہو، تم شعلۂ آتش ہو
جل جائے گا بس یوں ہی بےکار میں پروانہ
چہرے کو چھپا لینا تم زلف پریشاں سے
رخسار کے شعلے سے جل جاے نہ دیوانہ
تم دل کو رئیس! اپنے قابو میں رکھو ہر دم
ہو جاے کہیں اُن کا لبریز نہ پیمانہ

4
180
ماشاءاللہ ماشاءاللہ اللہ کریم زار قلم زیادہ کرے

بہت بہت شکریہ دل جوی کا

You deserve it

احباب سے اصلاح کی درخواست ہے

0