| بن دیے کچھ ، دعا نہیں ملتی |
| بھیک میں بھی وفا نہیں ملتی |
| بے سبب حادثے نہیں ہوتے |
| پھر بھی لیکن وجہ نہیں ملتی |
| ہے مرض لا علاج الفت کا |
| دیکھ اس کی دوا نہیں ملتی |
| بند کر لے زبان تو اپنی |
| حاکموں کو سزا نہیں ملتی |
| لوگ کہتے ہیں پیار بکتا ہے |
| بس یونہی دل ربا نہیں ملتی |
| سوچ لیتا ہوں میں بھی دم بھر کو |
| ہم نفس ہم نوا نہیں ملتی |
| تازہ جھونکے اگر نہیں آتے |
| گل کو بھی تازگی نہیں ملتی |
| ہاتھ مت چھوڑ تو امیدوں کا |
| سحر شب کے بنا نہیں ملتی |
| ہے الگ زندگی کی دھن شاہد |
| مانگنے سے قضا نہیں ملتی |
معلومات