چھپ کہ دنیا سے آہ بھرتے ہیں
رات دن تجھ کو یاد کرتے ہیں
کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
ہم تری سادگی پہ مرتے ہیں
کوئی اپنا یہاں عزیز نہیں
کس کی خاطر جہاں سے لڑتے ہیں
یاد آئیں جو وصل کے لمحے
بن کہ موتی یہ اشک جھڑتے ہیں
بے وفائی کے بعد بھی ان سے
ہے غنیمت کلام کرتے ہیں
ان نے نظریں ہیں پھیر لی حارث
آؤ ہم بھی یہ جام دھرتے ہیں
راجہ حارث دھنیال

0
1
67
اچھی کوشش

0