کریں ذکرِ نبی مِل کر، بلائیں سارے یاروں کو
عطا کرتے سہارا ہیں، مدد دیں بے سہاروں کو
مدینہ ہے نبی کا یہ، جہاں قسمت بدلتی ہے
عوامی لطف ہے اُن کا، خبر دو غم کے ماروں کو
یہاں محبوبِ رب سرور، جو محسن ہیں جہانوں پر
جہاں بس خوشیاں بٹتی ہیں، نبی کے جاں نثاروں کو
چلیں گے ساتھ مل کے ہم، درِ آقا پہ جانا ہے
چلے آئیں مدینے سب، ندا دو دل سے پیاروں کو
حسیں آقا حبیبِ رب، جو داتا دو جہاں کے ہیں
بھریں گے جھولیاں ہادی، بتائیں اپنے پیاروں کو
پریشاں ہجرِ احمد میں، نظر آتے ہیں بے جاں بھی
نہ گھبرائے کبھی کوئی، سنائیں دلفگاروں کو
برستی جس سے رحمت ہے، سہارا ہے وہ دلبر کا
نبی کے شہر سے حاصل، خوشی ہے سبزہ زاروں کو
ثنائے مصطفیٰ ہمدم، ہے جاری کل جہانوں میں
عُلی ذکرِ جمیل اُن کا، ہے پہنچا کل کناروں کو
نبی سے ہے رواں لگتا، جو گھیرے نور ہستی کو
تجلیٰ دہر پر اس سے، ملا یہ چاند تاروں کو
ثنا محمود آقا کی، حسیں زیور جہانوں کا
بنیں گجرے درودوں کے، ملیں پھر گل بہاروں کو

0
8
43
سر ایک سوال پوچھنا تھا- اگر گنجائش ہو تو میری مدد فرماں دیں-
حرف روی کیا ہے اور آپکی اس غزل میں حرف روی کیا ہے؟

0
عزیز القدر اپنے استفتار پر نظر ثانی فرمائیں۔
اللہ کریم آپ کی معرفت زیادہ کرے

0
استفسار

0
جی معافی چاہتا ہوں میں نے غلط جگہ سوال کا اندراج کر دیا- کہیں اور لکھنا تھا کہیں اور لکھ دیا- ڈیلیٖٹ کرنے کا کوئ طریقع بھی نہیں ہے- اس لۓ پھر سے معافی چاہتا ہوں-

0
کمزور ہیں خطا ہو جاتی ہے
آللہ کریم ہمیں معاف فرمائے آمیں
خوش رہیں خوش رکھیں
خوشیاں بانٹیں
اللہ کریم دامن کو
خوشیوں سے بھرا رکھے

آمین

0
آپ کی دعا کی اشد ضرورت ہے-اس با برکت مہینے میں مجھے دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں-

0
دعا گوہ ہوں