| یاں بات بن نہ پائے گی شاید بیان سے |
| اب سوچتا ہوں تیغ نکالوں میان سے |
| کردار ہیں کہانی کے ہم ہی تو مرکزی |
| ہم کو نکال پاؤ گے تم داستان سے |
| میں ہی ہوں جس کو آپ نے ٹھکرا دیا تھا کل |
| حیراں پھر آج کیوں ہو یوں میری اڑان سے |
| دیتے ہیں سر بھلے ہی جو بیعت کبھی نہیں |
| ہم ہیں اسی قبیل اسی خاندان سے |
| فتنہ فساد ظلم اگر یوں ہی بڑھیں گے |
| برسے گی آگ دیکھنا پھر آسمان سے |
| شبیر خوب سوچ لو انجام بعد میں |
| الفاظ تم نکالو یہاں پر زبان سے |
معلومات