حالات کا بہانہ بناکر نکل گئے
یوں ظلم کا نشانہ بنا کر نکل گئے
کیا فتنہ گر تھے ایک ہی دن کا قیام تھا
بستی قمار خانہ بنا کر نکل گئے
ہر موڑ پر شکست کے آثار تھے مگر
انداز فاتحانہ بنا کر نکل گئے
رشتوں میں اتنے نقص تھے اپنوں کے اور ہم
دشمن سے دوستانہ بنا کر نکل گئے
تھا سحر شخصیت کا یا جادو نظر میں تھا
دل کو طلسمِ خانہ بنا کر نکل گئے

0
1
89
اک زندگی فسانہ بنا کر نکل گئے
وہ ہم سے دوستانہ بنا کر نکل گئے
تنہاؔ

0