لب کھولنے سے پہلے ذرا یہ خیال ہو
ایسا نہ کچھ کہو کہ تمہں پھر ملال ہو
موقع ملا ہے اس کو گنواؤ نہ اس طرح
ایسا تم کر دکھاؤ کہ جو بے مثال ہو
پکڑو عزیز جاں سے بھی کردار کو سبھی
انگلی کوئی اٹھے نہ کوئی سوال ہو
وقتی خوشی کو پانے کو ایسا نہ کچھ کرو
دلدل ہو جس میں پھنسنے کا پھر احتمال ہو
محنت کیے بغیر کچھ ہاتھ آئے گر کبھی
یہ دیکھ لو کہ کوئی نہ دشمن کی چال ہو
دانائی پر تمھاری مجھے کوئی شک نہیں
یوں ہے کہ تم ابھی ذرا کچھ خوردسال ہو

4
20
اچھا خیال ہے۔

ممکنہ تصحیح
" پکڑو عزیز جاں سے بھی کردار کو سبھی"

"محنت کیے بغیر نہ پھیلا کے ہاتھ لو"

لکھتے رہیے
خوش رہیں سدا

"محنت کیے بغیر اگر ہاتھ آئے کچھ"

زیادہ بہتر رہے گا

Wow, speechless, should I go ahead and make the amendments? Please keep reviewing my ramblings, I really appreciate your time and consideration. 

0
آپ کے لیے ہی لکھا ہے جناب

خوش رہیں آپ!