غم دیدہ فضاؤں سے لپٹ کر رویا
پھولوں کی قباؤں سے لپٹ کر رویا
جس در سے ملا مجھے رونے کا ہنر
اس در کی ہواؤں سے لپٹ کر رویا
پھر بعد ترے جب کبھی ساون برسا
گھنگھور گھٹاؤں سے لپٹ کر رویا
جب بھی مجھے چھوڑا تو نے رسوا کر کے
میں پھر ترے پاؤں سے لپٹ کر رویا
اجڑا ہے تو پھولوں نے بھی کھلنا چھوڑا
گلشن میں خزاؤں سے لپٹ کر رویا
ساغر ہوا سے ڈوبا سفینہ اپنا
سارے نا خداؤں سے لپٹ کر رویا

2
147
بہترین کلام۔

بہت نوازش پیارے بھائی عبداللہ