Circle Image

حمزہ علی قرارؔ

@hamzaaliqrar

نظر سے دور سہی دل کے آس پاس رہے
کہ کچھ رہے نہ رہے زندگی میں آس رہے
شمارِ زخمِ دلِ ناصبور کس کے لیے
یہی بہت ہے کسی درد کا احساس رہے
کسی کے ہجر میں ایسی بھی روشنی دیکھی
دیا بھی جل نہ سکا اور دل شناس رہے

11
شرحِ انجیل تھی کہ آنکھ وہ تورات تھی
سوچتے ہیں تیرا چہرہ صبح تھی یا رات تھی
بیان ہی تو کر رہا تھا قیس صحرا کا جنوں
تم خفا کیوں ہو گئے اس قدر کیا بات تھی
جا رہا ہے تیری محفل سے یہ دل کہتا ہوا
ستائشِ غیرت رقیبِ اُلفتِ بد ذات تھی

21
آنسوؤں سے گریزاں سختی آلام سے واقف
وہ بیگانہ دستک ہے آمد ایام سے واقف
جیسے موسوم ہے آہ سے دل کی دھڑکن
کون ہوتا ہے اتنا کسی کے کام سے واقف

1
37