Circle Image

حمزہ علی قرارؔ

@hamzaaliqrar

شرحِ انجیل تھی کہ آنکھ وہ تورات تھی
سوچتے ہیں تیرا چہرہ صبح تھی یا رات تھی
بیان ہی تو کر رہا تھا قیس صحرا کا جنوں
تم خفا کیوں ہو گئے اس قدر کیا بات تھی
جا رہا ہے تیری محفل سے یہ دل کہتا ہوا
ستائشِ غیرت رقیبِ اُلفتِ بد ذات تھی

0
6
آنسوؤں سے گریزاں سختی آلام سے واقف
وہ بیگانہ دستک ہے آمد ایام سے واقف
جیسے موسوم ہے آہ سے دل کی دھڑکن
کون ہوتا ہے اتنا کسی کے کام سے واقف

1
24