شرحِ انجیل تھی کہ آنکھ وہ تورات تھی
سوچتے ہیں تیرا چہرہ صبح تھی یا رات تھی
بیان ہی تو کر رہا تھا قیس صحرا کا جنوں
تم خفا کیوں ہو گئے اس قدر کیا بات تھی
جا رہا ہے تیری محفل سے یہ دل کہتا ہوا
ستائشِ غیرت رقیبِ اُلفتِ بد ذات تھی
سب دیکھنے والے تماشا دیکھتے ہی رہ گئے
میرا جنازہ جا رہا تھا، اُس کی وہ برات تھی
تیری آنکھوں کی ذرا سی جنبشِ مے خیز بھی
ہم قدح خواروں کو جیسے حیلۂ نجات تھی
نقابِ شب میں جب کبھی آ گیا وہ روبرو
آسماں پر سُرخ شعلے حُسن کی سوغات تھی
مر گئے عشاق سب ہی بے دم و بے آسرا
جس گھڑی تیری سواری مظہرِ خیرات تھی
ہمتِ مفلس حریفِ بے رخی ہوتی مگر
دستِ قسمت کیا بتاؤ کیسی کم اوقات تھی
تیرے چہرے کی چمک گویا تجلی طور کی
ظلمتِ عالم میں ہر دم نور کی برسات تھی
تیری چوکھٹ پر قرارؔ پہنچے تھے ہم لیکن وہاں
نہ چراغِ بزم روشن تھا، نہ مے کی بات تھی

0
6