| دہکتی سوچوں سلگتی سانسوں میں کوئی نوحہ چپھا ہوا ہے
|
| محبتوں کی لطافتوں میں یہ درد کیسا چھپا ہوا ہے
|
| سنو تمھاری یہ کم نگاہی ہماری عظمت نہ جان پائی
|
| اے پست قامت ہمارے قد میں تمھارا سایہ چھپا ہوا ہے
|
| عبادتوں میں جو منہمک ہے کوئی تو جاکے اسے بتائے
|
| یتیم بچے کی اک ہنسی میں خدا کا رستہ چھپا ہوا ہے
|
|
|