تنہائیوں سے پیار تمھارے سبب ہوا
میں پھر سے اشکبار تمھارے سبب ہوا
زنجیر ڈال کر مجھے رفتار دی گئی
یہ ظلم باربار تمھارے سبب ہوا
تم جانتے ہو مری کوئی دشمنی نہیں
کل شام مجھ پہ وار تمھارے سبب ہوا
خاموش میری آنکھ تھی خاموش تھی زباں
میں سب پہ آشکار تمھارے سبب ہوا
نے کیا ہوا ہے مجھے مجھ سے آشنا
اس زندگی سے پیار تمھارے سبب ہوا
پہلے فقط زمان تھا صائب ہوا ہوں اب
یہ معجزہ بھی یار تمھارے سبب ہوا
زمان صائـــب

0
11