دہکتی سوچوں سلگتی سانسوں میں کوئی نوحہ چپھا ہوا ہے
محبتوں کی لطافتوں میں یہ درد کیسا چھپا ہوا ہے
سنو تمھاری یہ کم نگاہی ہماری عظمت نہ جان پائی
اے پست قامت ہمارے قد میں تمھارا سایہ چھپا ہوا ہے
عبادتوں میں جو منہمک ہے کوئی تو جاکے اسے بتائے
یتیم بچے کی اک ہنسی میں خدا کا رستہ چھپا ہوا ہے
گلاب چہرے کی زرد رنگت سبھی حقیقت بتا رہی ہے
تمھاری گردن کی پچھلی جانب ادھورا بوسہ چھپا ہوا ہے
تو ابنِ آدم سے کیسا شکوہ اے بنتِ حوّا بدن تمھارا
کہیں پہ آدھا چھلک رہا ہے کہیں پہ آدھا چھپا ہوا ہے
فلک نشینوں کو سب پتا ہے زمیں کے باسی بھی جانتے ہیں
کہ شہرِ جاں کی ہر اک گلی میں تمھارا نقشہ چھپا ہوا ہے
زباں سے چاہے جو کچھ کہو تم مگر حقیقت یہی ہے جاناں
میں جانتا ہوں اگر مگر میں ابھی بھی خدشہ چھپا ہوا ہے
جو تم ہو میں ہوں یقین مانو کہ تیسرا بھی ضرور ہو گا
محبتوں کے ہیں تین نقطے یہ جس میں نکتہ چھپا ہوا ہے
ہمیں وہ بھولا نہیں ہے اب تک بھی اور اس کا ثبوت یہ ہے
کہ اس کے کمرے میں جا کے دیکھو ہمارا تکیہ چھپا ہوا ہے
پتا تو ہوگا بطور انساں ہمارے اندر زمان صائب
کہیں درندہ چھپا ہوا ہے کہیں فرشتہ چھپا ہوا ہے

0
3