Circle Image

Sagar Haider Abbasi

@User2021

شعری مجموعہ : 1- ماں، 2- میرے انمول دُکھ شاعر : ساگر حیدر عباسی (کراچی پاکستان)

کوئی بھی سلسلہ ہو وہ مسلسل تو نہیں رہتا
ابھی جو ربط قائم ہے اسے بھی ختم ہونا ہے
مجھے اب اور نثروں میں نہیں لکھنا ہے غم اپنا
نکھر کر اب مری نثروں کو موزوں نظم ہونا ہے
سہے اب تک کہاں میں نے محبت کے ستم سارے
محبت کا ابھی مجھ پر یہ لطف و کرم ہونا ہے

0
4
شاید مرے عیب میری خوبی ہوں اے جہاں
تیری نظر میں ابھی اتنا اثر ہی کہاں
ساگر حیدر عباسی

4
بُرا وقت ایک ایسا آئینہ ہے جو اپنوں میں چُھپے غیر اور غیروں میں چُھپے اپنوں کوبے نقاب کر دیتا ہے ۔
ساگر حیدر عباسی

31
شبِ وصل کی ہے آرزو اور تیری یاد ہے
ہے دل میں تری ہی جستجو اور تیری یاد ہے
اتر ہی گیا یہ زہر مرے دل میں عشق کا
غمِ عشق ہے یہ چار سُو اور تیری یاد ہے
قضا ہو نہ جائے عشق عبادت تری کہیں
ہوں بیٹھا ادب سے باوضو اور تیری یاد ہے

0
26
مسکرانے کی بات کرتے ہو
دل جلانے کی بات کرتے ہو
ہم عید تک منانا بھول گئے ساگر
تم نیا سال منانے کی بات کرتے ہو

0
4
میرے ہر دکھ میں میرا ساتھ دیتا تھا
ہر قدم پر جو میرے ساتھ رہتا تھا
سرد موسم میں میٹھی دھوپ لگتا تھا
اک فرشتے کا بابا روپ لگتا تھا

0
5