Circle Image

Sagar Haider Abbasi

@User2021

شعری مجموعہ : 1- ماں، 2- میرے انمول دُکھ شاعر : ساگر حیدر عباسی (کراچی پاکستان)

میں تم کو بھی یوں محبت میں ڈھال سکتا ہوں
خیالِ دل میں نیا رنگ اُبھار سکتا ہوں
اگر تمہارا اشارہ ذرا سا مل جائے
میں خشک شاخ پہ موسم اُتار سکتا ہوں
وفا کے حرف مری روح میں اتر جائیں
وفاؤں کو نئے رنگوں میں ڈھال سکتا ہوں

0
5
میں زندگی کو کس کے غم میں مٹا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ہے کون سی کمی جو مجھ کو ستا رہی ہے
کس درد کی تپش میں خود کو جلا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ٹوٹا ہوا ہے دل بھی نم ہیں مری نگاہیں

0
3
مٹی کی خوشبو میں جنت بستی تھی
ہر دل میں الفت کی دولت بستی تھی
صحنوں میں بچوں کی ہنسی گونجتی رہتی
بوڑھوں کی باتوں میں حکمت بستی تھی
رشتوں کی خوشبو ہر اک سو پھیلی تھی
آنکھوں میں چاہت کی رونق بستی تھی

0
10
غمِ عشق تیرے ستم کا اثر ہے
مجھے اب نہ کوئی کسی کی خبر ہے
یوں پھیلا ہوا زہر تیرا ہے مجھ میں
اگر سانس بھی لوں تو جلتا جگر ہے
ترے عشق نے مجھ کو دی ہے یہ شہرت
مجھے جانتا اب تو یہ شہر بھر ہے

0
6
جھوٹ کا تاج ترے سر سے اُتر جائے گا
سچ یہ اک روز ترے سامنے آ جائے گا
وقت لکھتا ہے گواہی بھی حقیقت کے لیے
ہر چھپا راز زمانے میں بکھر جائے گا
حق کی آواز کو دیوار نہ سمجھو ہرگز
یہ صدا ہے کسی دن دل میں اُتر جائے گا

0
12
جھوٹ جس شخص کے کردار میں بس جاتا ہے
وقت اس شخص کا معیار گرا دیتا ہے
از ساگر حیدر عباسی

0
10
معافی شاید مل جائے، مگر آپ کے ٹوٹے ہوئے بھروسے کی بازگشت میرے ضمیر میں ہمیشہ سنائی دیتی رہے گی۔

0
11
1-صبر ہر دکھ کا انکار نہیں، بلکہ ہر دکھ کے باوجود امید کا اقرار ہے۔
2-جو شخص صبر کا ہنر سیکھ لیتا ہے، وہ قسمت کے بدلنے سے پہلے خود کو سنوار لیتا ہے۔
3-صبر صرف انتظار کا نام نہیں، بلکہ انتظار کے دوران کردار کو قائم رکھنے کا نام ہے۔
4-صبر کمزوروں کی مجبوری نہیں، مضبوط لوگوں کا شعوری فیصلہ ہے۔
5-صبر، شکست کو سبق بنا دیتا ہے۔
6-صبر، زخموں کو وقار عطا کرتا ہے۔

0
12
صبر ہر دکھ کا انکار نہیں، بلکہ ہر دکھ کے باوجود امید کا اقرار ہے۔

0
7
جو ہاتھ احسان کے لیے اٹھتے ہیں، وہ اپنی عظمت کا اعلان کیے بغیر بلند ہو جاتے ہیں۔

0
6
احسان کی ایک کرن کبھی کبھی مایوسی کی پوری رات کو شکست دے دیتی ہے۔

0
7
احسان کا وزن ترازو میں نہیں، دلوں کی دعا میں ناپا جاتا ہے۔

0
8
زندگی کی اصل خوبصورتی دوسروں پر احسان کرنے میں پوشیدہ ہے۔

0
7
دوغلے لوگوں کا احسان دل میں شکر نہیں بلکہ بوجھ پیدا کرتا ہے۔

0
10
منافقت کی سب سے خطرناک شکل، اپنائیت کا لبادہ ہے۔

0
10
وہ لمحہ سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے جب انسان ضرورت کے ہاتھوں اپنی خودداری ہار بیٹھتا ہے

0
13
ہر مجبور شخص کمزور نہیں ہوتا، مگر کچھ مجبوریاں انسان سے اس کا وقار چھین لیتی ہیں۔

0
10
محبت اگر عزتِ نفس کی قیمت مانگے، تو ایسی محبت سے محرومی بہتر ہے۔
عزتِ نفس کے بدلے مانگی گئی قربانی، کبھی وفا کی دلیل نہیں بن سکتی۔

0
15
جو رشتہ عزتِ نفس کے بدلے ملے، وہ دیرپا نہیں ہوتا

0
5
اپنے کردار کو اتنا بلند رکھو کہ دوسروں کا رویہ تمہاری پہچان نہ بن سکے

0
10
جو تمہیں کھو کر بھی مطمئن تھا، اسے اپنی خوش حالی سے جواب دو، شکایتوں سے نہیں

0
6
عزتِ نفس والے دل نفرت نہیں پالتے، بس فاصلے قائم کر لیتے ہیں

0
9
عمر بھر تم پہ ناز تھا پر
ایک لمحے میں پھر گئے تم
بات بس مختصر ہے اتنی
میرے دل سے اتر گئے تم

0
7
مرا سکون چھین کر
رہا جو میری ذات میں
نہ وہ کبھی جدا ہوا
نہ آ سکا حیات میں
دعا بھی اس کے نام کی
گلہ بھی اس کے نام کا

0
15
تیرا ساگر اس جہاں میں یہ بسیرا
ریت کے بے نام ذرے کی طرح ہے
عمر بھر بھٹکے سکوں کی جستجو میں
ہر سفر صحرا کے رستے کی طرح ہے
اپنی ہستی پر نہ اتنا ناز کرنا
سانس اک مہمان لمحے کی طرح ہے

0
12
ہو اگر حرف میں تاثیر تو جاں بخش بھی ہو
ورنہ بے سود ہے ہر نغمۂ بے جان، سخن
ہو اگر ذوقِ نظر خاک میں افلاک دکھیں
ورنہ بینا کو بھی ملتا نہیں عرفانِ سخن
بے ادب اہل کی محفل سے کنارا ہی بھلا
خامشی بہتر از آں، حرفِ پریشاں، اے سخن

0
10
اُستاد کا فیضِ نظر دل میں مرے الہام کر
ہر ذہن کو روشن بنا ہر فکر کو پیغام کر
نادان نسلِ عصر کو آئینۂ کردار دے
اخلاق کو دستور کر اخلاص کو اکرام کر
سوئی ہوئی تقدیر کو آواز دے بیدار کر
ہر مرد مومن انساں کو تو صاحبِ اقدام کر

0
8
کسی رشتے میں بھی ویسی محبت ہی نہیں ہوتی
جو ماں کے دل میں ہوتی ہے وہ شدت ہی نہیں ہوتی
جہاں میں ماں سے بڑھ کر کوئی نعمت ہی نہیں ہوتی
خدا کی اس عطا جیسی عنایت ہی نہیں ہوتی
دعا کی چھاؤں مل جائے تو ہر آفت بھی ٹل جائے
کسی بھی سائباں میں وہ حفاظت ہی نہیں ہوتی

0
9
جانے والے کو بھولنا بہتر
ورنہ جینا سزا ہو جاتا ہے
یوں کسی کو نہ چاہ، اے ساگر
پل میں انساں خدا ہو جاتا ہے

0
5
تری یاد دل میں چراغِ سحر ہے
مری ہر دعا کا یہی اک ثمر ہے
غمِ ہجر دل پر عجب سا اثر ہے
مری زندگی اب تو دردِ جگر ہے
مرے دل میں اب بھی وہی اک نظر ہے
جو برسوں سے دل کا حسیں ہم سفر ہے

0
14
بات بس مختصر ہے اتنی
میرے دل سے اتر گئے تم

0
5
دلوں میں روشنی رکھنا یہی ایمان کافی ہے
سفر کتنا ترا دشوار ہو سامان کافی ہے
دعا لب پر رہے ہر دم یہی احسان کافی ہے
اگر نیت ہو سچی تو یہی پیمان کافی ہے
اندھیروں سے نہ گھبرا اک ذرا سی شمع جلنے دے
قدم بڑھتے ہی جائیں گے یہی امکان کافی ہے

8
خزاں کے بعد بھی دیکھو، چمن آباد رہتا ہے
اگر دل میں امیدوں کا کوئی گلزار رہتا ہے

0
7
تیری ہستی مری جینے کا سہارا نکلی
تیری سیرت ہی مری زیست کا دھارا نکلی
جب بھی حالات نے چاہا کہ مجھے وہ توڑیں
تیری آواز مری روح کا نعرہ نکلی
سیکھا تجھ سے یہ کہ طوفان سے ڈرنا کیسا
تیری ہر بات مری راہ کا تارا نکلی

0
9
اے مرے رب تیری رحمت سے ہے روشن ہر جہاں
تیری قدرت سے عیاں ہے کائناتِ بے کراں
تو نے مٹی کو عطا کی عقل دل سوز و نظر
تو نے بخشا آدمی کو عزتِ کون و مکاں
پھر یہی انسان کیوں بھٹکا ہوا پھرتا ہے آج
کیوں ہے دل ویران اس کا کیوں بجھا ہے کارواں

0
6
وہ میرے حال پہ ہنسنے والے لوگ جو تھے
خود اپنے حال پہ رونے کے قابل نہ رہے

0
6
وہی زخموں کا بانی تھا وہی مرہم لگاتا تھا
عجب وہ اپنے ہونے کا یقیں دل کو دلاتا تھا
وہی الزام دیتا تھا وہی معصوم بنتا تھا
عجب کردار تھا اس کا عجب پردے لگاتا تھا
وہی ہر درد کا باعث وہی آرامِ جاں ٹھہرا
وہی نزدیک رہ کر بھی مسافت چھوڑ جاتا تھا

19
حسابِ جہاں کیا تو یہ راز افشاں ہوا
خسارہ ہی تھا وہ جس کو ہمیشہ نفع کہا

8
ترے خیال میں پھرا میں اتنا دربدر
سفر تمام کر کے بھی نہ اپنا گھر ملا

8
تعلقوں کے شہر میں یہی عجیب رسم ہے
سزا تو مل گئی مگر قصور ہی نہ مل سکا

8
زمانے نے ستم کچھ کم نہیں ڈھائے مرے دل پر
مرا غم کیوں بڑھانے کا تجھے سوجھا مرے دلبر

0
10
غمِ جاناں میں نے مانا
محبت جان لیتی ہے
ساگرحیدرعباسی

0
4
کوئی بھی سلسلہ ہو وہ مسلسل تو نہیں رہتا
ابھی جو ربط قائم ہے اسے بھی ختم ہونا ہے
مجھے اب اور نثروں میں نہیں لکھنا ہے غم اپنا
نکھر کر اب مری نثروں کو موزوں نظم ہونا ہے
سہے اب تک کہاں میں نے محبت کے ستم سارے
محبت کا ابھی مجھ پر یہ لطف و کرم ہونا ہے

0
13
شاید مرے عیب میری خوبی ہوں اے جہاں
تیری نظر میں ابھی اتنا اثر ہی کہاں
ساگر حیدر عباسی

12
بُرا وقت ایک ایسا آئینہ ہے جو اپنوں میں چُھپے غیر اور غیروں میں چُھپے اپنوں کوبے نقاب کر دیتا ہے ۔
ساگر حیدر عباسی

40
شبِ وصل کی ہے آرزو اور تیری یاد ہے
ہے دل میں تری ہی جستجو اور تیری یاد ہے
اتر ہی گیا یہ زہر مرے دل میں عشق کا
غمِ عشق ہے یہ چار سُو اور تیری یاد ہے
قضا ہو نہ جائے عشق عبادت تری کہیں
ہوں بیٹھا ادب سے باوضو اور تیری یاد ہے

0
37
میرے ہر دکھ میں میرا ساتھ دیتا تھا
ہر قدم پر جو میرے ساتھ رہتا تھا
سرد موسم میں میٹھی دھوپ لگتا تھا
اک فرشتے کا بابا روپ لگتا تھا

0
12