| شبِ وصل کی ہے آرزو اور تیری یاد ہے |
| ہے دل میں تری ہی جستجو اور تیری یاد ہے |
| اتر ہی گیا یہ زہر مرے دل میں عشق کا |
| غمِ عشق ہے یہ چار سُو اور تیری یاد ہے |
| قضا ہو نہ جائے عشق عبادت تری کہیں |
| ہوں بیٹھا ادب سے باوضو اور تیری یاد ہے |
| مجھے تیرا ہی خیال مرے یار رہتا ہے |
| ترا عکس میرے روبرو اور تیری یاد ہے |
معلومات