شبِ وصل کی ہے آرزو اور تیری یاد ہے
ہے دل میں تری ہی جستجو اور تیری یاد ہے
اتر ہی گیا یہ زہر مرے دل میں عشق کا
غمِ عشق ہے یہ چار سُو اور تیری یاد ہے
قضا ہو نہ جائے عشق عبادت تری کہیں
ہوں بیٹھا ادب سے باوضو اور تیری یاد ہے
مجھے تیرا ہی خیال مرے یار رہتا ہے
ترا عکس میرے روبرو اور تیری یاد ہے

0
26