کوئی بھی سلسلہ ہو وہ مسلسل تو نہیں رہتا
ابھی جو ربط قائم ہے اسے بھی ختم ہونا ہے
مجھے اب اور نثروں میں نہیں لکھنا ہے غم اپنا
نکھر کر اب مری نثروں کو موزوں نظم ہونا ہے
سہے اب تک کہاں میں نے محبت کے ستم سارے
محبت کا ابھی مجھ پر یہ لطف و کرم ہونا ہے
ابھی تو ضبط ہے مجھ میں مگر یہ ضبط ٹوٹے گا
ابھی تو نم جدائی میں مری یہ چشم ہونا ہے
تجھے خوش فہمی ہے تو پارسا ہے اس محبت میں
محبت کا ابھی تجھ پر یہ ثابت جرم ہونا ہے
ابھی ٹوٹا ہے دل ساگر وفا پر ناز باقی ہے
مگر یہ ناز ٹوٹے گا یہ تیری قسم ہونا ہے

0
4