مجھے تجھ سے بچھڑ جانے کا دکھ ہے
کلی کے کھل کے مرجھانے کا دکھ ہے
مجھے کل تو نے ٹھہرایا تھا لیکن
جہاں کو آج ٹھکرانے کا دکھ ہے
وفا پانے کی دل میں آرزو تھی
تماشا بن کے رہ جانے کا دکھ ہے
تجھے سو بار سمجھایا تھا میں نے
مگر اب تیرے کمہلانے کا دکھ ہے
جگاتا ہے مجھے شب بھر ترا غم
خوشی اپنی نہ بیگانے کا دکھ ہے
لگا کچھ جھڑتے پتے دیکھ کر یوں
مرے تنہا چلے آنے کا دکھ ہے
اگرچہ آج حسرت چپ ہے لیکن
تری تنقید کا طعنے کا دکھ ہے
بحر
ہزج مسدس محذوف
مفاعیلن مفاعیلن فَعُولن

142

اشعار کی تقطیع

تقطیع دکھائیں