خواب میں تو نظر جمال پڑا
پر مرے جی ہی کے خیال پڑا
وہ نہانے لگا تو سایۂ زلف
بحر میں تو کہے کہ جال پڑا
میں نے تو سر دیا پر اے جلاد
کس کی گردن پہ یہ وبال پڑا
شیخ قلاش ہے جوے میں نہ لاؤ
یاں ہمارا رہے ہے مال پڑا
خوبرو اب نہیں ہیں گندم گوں
میر ہندوستاں میں کال پڑا
بحر
خفیف مسدس مخبون محذوف
فاعِلاتن مفاعِلن فَعِلن
خفیف مسدس مخبون محذوف
فَعِلاتن مفاعِلن فَعِلن

0
94

اشعار کی تقطیع

تقطیع دکھائیں