وہ تو پتھر پہ بھی گزرے نہ خدا ہونے تک
جو سفر میں نے نہ ہونے سے کیا ہونے تک
زندگی اس سے زیادہ تو نہیں عمر تری
بس کسی دوست کے ملنے سے جدا ہونے تک
ایک اِک سانس مری رہن تھی دِلدار کے پاس
نقدِ جاں بھی نہ رہا قرض ادا ہونے تک
مانگنا اپنے خدا سے بھی ہے دریوزہ گری
ہاتھ شل کیوں نہ ہوئے دستِ دُعا ہونے تک
اب کوئی فیصلہ ہو بھی تو مجھے کیا لینا
میں تو کب سے ہوں سرِ دار سزا ہونے تک
داورا تیری مشیت بھی تو شامل ہو گی
ایک اچھے بھلے انساں کے برا ہونے تک
دستِ قاتل سے ہوں نادم کہ لہو کو میرے
عمر لگ جائے گی ہمرنگ حنا ہونے تک
دشت سے قلزمِ خوں تک کی مسافت ہے فراز
قیس سے غالبِ آشفتہ نوا ہونے تک
بحر
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن سالم مخبون محذوف
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
رمل مثمن سالم مخبون محذوف
فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن

2
76
احمد فراز صاحب کا خوبصورت کلام ۔ مندرجہ ذیل شعر تو بہت ہی عمدہ ہے۔

دستِ قاتل سے ہوں نادم کہ لہو کو میرے

عمر لگ جائے گی ہمرنگ حنا ہونے تک

0
احمد فراز صاحب کا خوبصورت کلام ۔ مندرجہ ذیل شعر تو بہت ہی عمدہ ہے۔

دستِ قاتل سے ہوں نادم کہ لہو کو میرے

عمر لگ جائے گی ہمرنگ حنا ہونے تک

0