روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہر یار کی
اترائے کیوں نہ خاک سرِ رہ گزار کی
جب اس کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ
لوگوں میں کیوں‌ نمود نہ ہو لالہ زار کی
بھوکے نہیں ہیں سیرِ گلستاں کے ہم ولے
کیوں کر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی
بحر
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن

0
68

اشعار کی تقطیع

تقطیع دکھائیں