گھر میں جگنو ہے، نہ ستارا کوئی
کیسے کہہ دیں کہ ہے ہمارا کوئی
افلاک کی حد سے یہ پکارا کوئی
کیا تم سا بھی ہے قسمت کا مارا کوئی
پھر ہو گی مکمل یہ مری تازہ غزل
مل جائے مجھے گر استعارہ کوئی
اے دشتِ اذیت اے دریائے غم
کیا دونوں کا بھی ہے کنارا کوئی
میں خاک نشیں اک صحرا کا باسی
کب پہنے گا میرا اتارا کوئی
لڑنا پڑتا ہے لہروں سے ساغر
ورنہ دیتا نہیں سہارا کوئی

0
7