| بھیگی یاد |
| وہ ہلکی بارش... |
| اور بالکونی کا نیم تاریک کونا |
| ہم دونوں چپ تھے |
| ہاتھ ذرا سے باہر کو نکلے ہوئے، بوندوں کی زد میں |
| میں نے تیرا ہاتھ تھام رکھا تھا |
| اور بارش کا پانی |
| تیری ہتھیلی کی لکیروں میں الجھ کر... |
| جیسے میرا نام ڈھونڈ رہا تھا |
| اس دن... |
| بالکونی میں رکھے گملوں سے اٹھتی بھیگی مہک |
| اور تیری ہتھیلی سے پھسل کر |
| میری کلائی پر گرنے والا وہ ایک سرد قطرہ |
| میرے وجود میں کہیں جم سا گیا تھا |
| میرے ہاتھ کی گرفت میں کوئی التجا نہیں تھی |
| صرف ایک کھردرا سا ڈر تھا |
| کہ انگلیاں ڈھیلی پڑیں، تو شاید سب بہہ جائے گا |
| تو نے بھی ہاتھ نہیں کھینچا تھا |
| مگر ایک دوری ... |
| شاید ہماری بھیگی انگلیوں کے بیچ سانس لے رہی تھی |
| اب بارش ہوتی ہے |
| تو میں آج بھی بالکونی میں کھڑا |
| ہتھیلی پر بارش کے قطرے |
| قید کرنے کی کوشش کرتا ہوں |
| اور سوچتا ہوں... |
| تیرے ہاتھ کی لکیروں کے الجھاؤ میں، |
| اس دن باقی پانی کو گرنے کا راستہ تو مل گیا تھا |
| مگر وہ ایک قطرہ... |
| میری کلائی پر گرنے سے پہلے |
| تیری مٹھی میں... کتنی دیر کے لیے... |
| ٹھہرا تھا؟ |
| ایک سیکنڈ؟ |
| یا پھر... میری ساری زندگی ایک سیکنڈ کی تھی |
| اچانک میرے ہاتھ میں پھر وہی سنسناہٹ جاگی |
| اور میں یہ زیر لب بڑبڑاتا ہوا |
| سوچ کی وادیوں سے باہر آگیا |
| اففف یہ بارش، |
| پھر کہاں لے گئی مجھے |
معلومات