مدینے ہو آنا ثنا کرتے کرتے
حبیبی حبیبی صدا کرتے کرتے
تمنا ہے دل کی ہو باغِ مدینہ
لگے آنکھ میری دعا کرتے کرتے
چلوں میں مدینے ہیں دلبر مدینے
کریما نظر ہو ندا کرتے کرتے
گلوں سے سوا ہیں جو خارِ مغیلاں
چنے آنکھ صلے علیٰ کرتے کرتے
درِ مصطفیٰ سے ملے سرفرازی
کہاں ہیں وہ تھکتے عطا کرتے کرتے
بڑا عارضہ دل کو ہجرِ نبی ہے
سجائیں یہ سپنے دوا کرتے کرتے
بنے نعتِ سرور ہی توشہ لحد کا
رواں سانس ہو مصطفیٰ کرتے کرتے
زیاں کار محمود مانگے شفاعت
پشیماں ہوا ہے خطا کرتے کرتے

1
11
خلاصۂ کلام

یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ، شوقِ مدینہ، اور شفاعتِ مصطفیٰ ﷺ کی پُرخلوص دعا کا حسین اظہار ہے۔ شاعر مدینہ منورہ کی حاضری، روضۂ اقدس کی زیارت، اور ذکر و درود کی دائمی سعادت کا آرزو مند ہے۔ ہجرِ رسول ﷺ کی کسک، گناہوں پر ندامت، اور آخرت میں نعت کو زادِ راہ بنانے کی تمنا پورے کلام میں نمایاں ہے۔ آخری شعر میں شاعر عاجزی کے ساتھ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے بارگاہِ رسالت ﷺ میں شفاعت کا طلبگار بنتا ہے، جس سے کلام کی روحِ محبت، ادب اور امید اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔

0